جلوسِ میلاد کہاں سے ثابت ہے؟
جلوسِ میلاد کہاں سے ثابت ہے؟ اس سوال کے جواب میں سیرتِ طیبہ اور کتبِ حدیث میں وارد ان روایات کا مطالعہ کیا جائے جن میں اہلِ مدینہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدِ مبارک کے انتظار میں اجتماعی طور پر نکلنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنا، خوشی و مسرت کا اظہار کرنا اور آپ کی آمد پر مختلف طریقوں سے اظہارِ محبت و شادمانی کرنا بیان ہوا ہے۔
ان روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے موقع پر اہلِ مدینہ صرف انفرادی طور پر استقبال کے لیے نہیں آئے، بلکہ اجتماعی انتظار، اجتماع، استقبال اور اظہارِ مسرت کی مختلف صورتیں بھی موجود تھیں۔
مدینہ کے مسلمانوں کا روزانہ انتظار کے لیے نکلنا
ان دنوں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کسی روز بھی متوقع تھی تو مدینہ منورہ کے مرد و زن، بچے اور بوڑھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے مدینہ سے چند میل کے فاصلے پر واقع حرہ کی طرف نکلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ دیکھتے۔ دوپہر کی شدتِ گرمی کے باعث واپس لوٹ آتے اور اگلے دن پھر اسی امید کے ساتھ نکلتے۔
آمدِ نبوی ﷺ پر مسلح ہوکر استقبال
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لانے والے تھے تو اہلِ مدینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے نکلے۔ ایک یہودی شخص نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا تو بلند آواز سے اہلِ مدینہ کو آپ کی آمد کی خبر دی، جس کے بعد مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر استقبال کے لیے دوڑ پڑے۔
بنو نجار کا اجتماعی استقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمرو بن عوف کے ہاں قیام فرمایا، پھر بنو نجار کے لوگوں کو پیغام بھیجا گیا۔ وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد موجود رہے، یہاں تک کہ آپ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے صحن میں تشریف لے گئے۔
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا بیان
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد کا منظر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے اور یہ اعلان ہونے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔
📖 سنن الترمذی، حدیث: 2485، ج 4، ص 233
آمدِ مصطفیٰ ﷺ سے مدینہ کا خوشی سے جگمگا اٹھنا
سنن الترمذی کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد کے دن اہلِ مدینہ کی خوشی کا نہایت بلیغ نقشہ پیش کیا گیا ہے۔
اہلِ مدینہ کی خوشی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے امام نورالدین حلبی رحمۃ اللہ علیہ حضرت براء رضی اللہ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما کی روایات نقل کرتے ہیں کہ مدینہ والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر ایسی خوشی ہوئی جو اس سے پہلے کسی چیز پر اس قدر نہیں ہوئی تھی۔
📖 انسان العیون، ج 3، ص 139
عورتوں کا چھتوں پر آنا اور آمدِ مصطفیٰ ﷺ کا منظر دیکھنا
اسی روایت کے تسلسل میں یہ بھی مذکور ہے کہ مدینہ کی عورتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے موقع پر گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئیں اور ایک دوسرے سے دریافت کرنے لگیں کہ ان میں سے ہمارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔
قباء سے مدینہ تک اجتماعی قافلہ
جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم قباء سے سوار ہوکر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے تو بہت سے لوگ آپ کے ساتھ چل پڑے۔ ان میں سوار بھی تھے اور پیدل چلنے والے بھی۔ ہر شخص اس سعادت کا خواہش مند تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ کر آپ کے ساتھ چلنے کی خدمت حاصل ہوجائے۔
امام نورالدین حلبی رحمۃ اللہ علیہ اسی واقعے کے ضمن میں اہلِ مدینہ کے اس استقبال اور خوشی کا مزید ذکر کرتے ہیں:
📖 انسان العیون في سیرۃ الامین المأمون، ج 2، ص 152
ان روایات سے حاصل ہونے والا استدلال
مذکورہ روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدِ مبارک کے موقع پر اہلِ مدینہ کا اجتماعی طور پر انتظار کرنا، بار بار استقبال کے لیے نکلنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر دوڑ پڑنا، اجتماعی طور پر استقبال کرنا، خوشی و مسرت کا اظہار کرنا، گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر آمد کا منظر دیکھنا، آپ کی سواری کے گرد جمع ہونا اور قباء سے مدینہ تک آپ کے ساتھ چلنا جیسے متعدد واقعات منقول ہیں۔
اسی بنا پر مضمون نگار ان روایات سے یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدِ مبارک کے موقع پر اجتماع، استقبال، اظہارِ مسرت اور جلوس نما اجتماعی قافلے کی اصل صورتیں سیرت کے روایتی ذخیرے میں موجود ہیں۔
ان روایات میں جلوس، اجتماع اور استقبال کی مختلف صورتیں موجود ہیں، جن میں شریک لوگ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدِ مبارک پر انتہائی محبت، خوشی اور عقیدت کا اظہار کر رہے تھے۔ مضمون نگار کے نزدیک جلوسِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اجتماع، استقبال، اظہارِ محبت اور خوشی کی یہی روح پائی جاتی ہے۔
آخر میں یہی عرض ہے کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اہلِ سنت کی سعادتوں اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار کا حصہ ہے۔
📅 10 ربیع الاول 1447ھ، بمطابق 3 ستمبر 2025ء، بروز جمعرات
یہ مضمون سیرتِ طیبہ اور کتبِ حدیث میں وارد ان روایات کو یکجا کرتا ہے
جن میں مدینہ منورہ کے اہلِ ایمان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
آمدِ مبارک کے انتظار، استقبال، اجتماع اور اظہارِ مسرت کی مختلف صورتیں
بیان ہوئی ہیں۔ مضمون کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ متعدد روایات اور
سیرت کے حوالہ جات کو ایک مربوط ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جس سے
قاری کو عہدِ نبوی میں استقبالِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتماعی
مظاہر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
اس مضمون کی اہمیت اس اعتبار سے بھی ہے کہ یہ ایک معروف دینی موضوع کو
محض دعوے کی صورت میں پیش کرنے کے بجائے روایات، عربی نصوص، تراجم اور
حوالہ جات کے ذریعے مطالعے کے لیے سامنے لاتا ہے۔ اس سے قاری کو
متعلقہ مصادر کی طرف رجوع کرنے، واقعات کو ان کے تاریخی پس منظر میں
دیکھنے اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار کی مختلف صورتوں
پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔
اس مضمون کا مطالعہ بالخصوص ان قارئین کے لیے مفید ہے جو میلاد،
استقبالِ نبوی، اظہارِ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عہدِ نبوی
کے اجتماعی مظاہر سے متعلق روایات کو ایک جگہ منظم انداز میں پڑھنا
چاہتے ہیں۔ متعدد حوالہ جات کی موجودگی اسے مزید مطالعہ اور علمی
تحقیق کے لیے بھی ایک مفید نقطۂ آغاز بناتی ہے۔
