نظریات و شعائرِ اہلِ سنت

جلوسِ میلاد کہاں سے ثابت ہے؟

✍️ مصنف: احمد رضا مغل
📅 تاریخ: 10 ربیع الاول 1447ھ، بمطابق 3 ستمبر 2025ء
📆 دن: جمعرات
⏱️ وقتِ مطالعہ: 13 منٹ
👁️ دیکھا گیا: [View Count] مرتبہ

جلوسِ میلاد کہاں سے ثابت ہے؟ اس سوال کے جواب میں سیرتِ طیبہ اور کتبِ حدیث میں وارد ان روایات کا مطالعہ کیا جائے جن میں اہلِ مدینہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدِ مبارک کے انتظار میں اجتماعی طور پر نکلنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنا، خوشی و مسرت کا اظہار کرنا اور آپ کی آمد پر مختلف طریقوں سے اظہارِ محبت و شادمانی کرنا بیان ہوا ہے۔

ان روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے موقع پر اہلِ مدینہ صرف انفرادی طور پر استقبال کے لیے نہیں آئے، بلکہ اجتماعی انتظار، اجتماع، استقبال اور اظہارِ مسرت کی مختلف صورتیں بھی موجود تھیں۔

مدینہ کے مسلمانوں کا روزانہ انتظار کے لیے نکلنا

ان دنوں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کسی روز بھی متوقع تھی تو مدینہ منورہ کے مرد و زن، بچے اور بوڑھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے مدینہ سے چند میل کے فاصلے پر واقع حرہ کی طرف نکلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ دیکھتے۔ دوپہر کی شدتِ گرمی کے باعث واپس لوٹ آتے اور اگلے دن پھر اسی امید کے ساتھ نکلتے۔

ولما سمع المسلمون بالمدينۃ بخروج رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة كانوا يغدون كل غداة إلى الحرة ينتظرونه حتى يردهم حر الظهيرة.
ادھر جب مدینے کے مسلمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مکے سے روانگی کی خبر ہوئی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں روزانہ صبح ہی سے حرہ کے مقام پر آجاتے اور جب دوپہر کو دھوپ کی تیزی ناقابلِ برداشت ہوجاتی تو واپس مدینے چلے جاتے۔
📖 انسان العیون فی سیرۃ الامین المأمون، ج 3، ص 139

آمدِ نبوی ﷺ پر مسلح ہوکر استقبال

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لانے والے تھے تو اہلِ مدینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے نکلے۔ ایک یہودی شخص نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا تو بلند آواز سے اہلِ مدینہ کو آپ کی آمد کی خبر دی، جس کے بعد مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر استقبال کے لیے دوڑ پڑے۔

يا معاشر العرب هذا جدكم الذى تنتظرون فثار المسلمون إلى السلاح فتلقوا رسول الله صلى الله عليه وسلم بظهر الحرة فعدل بهم ذات اليمين حتى نزل بهم في بني عمرو بن عوف وذلك يوم الاثنين من شهر ربيع الأول.
اے عرب کے لوگو! تمہارے وہ بزرگ آگئے ہیں جن کا تمہیں انتظار تھا۔ پس مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر دوڑے اور سیاہ پتھریلی زمین پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دائیں طرف کا راستہ اختیار کیا، حتیٰ کہ آپ بنو عمرو بن عوف کے محلہ میں قیام فرما ہوئے، اور یہ ربیع الاول کے مہینے کا پیر کا دن تھا۔
📖 صحیح البخاری، حدیث: 3906، ج 5، ص 60–61

بنو نجار کا اجتماعی استقبال

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمرو بن عوف کے ہاں قیام فرمایا، پھر بنو نجار کے لوگوں کو پیغام بھیجا گیا۔ وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیے حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد موجود رہے، یہاں تک کہ آپ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے صحن میں تشریف لے گئے۔

رسول الله صلى الله عليه وسلم على راحلته وأبو بكر ردفه وملأ بني النجار حوله حتى ألقى بفناء أبي أيوب.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تھے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے اور بنو نجار کے لوگ آپ کے ارد گرد موجود تھے، یہاں تک کہ آپ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے صحن میں تشریف لے گئے۔
📖 صحیح البخاری، حدیث: 3932، ج 5، ص 67–68

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا بیان

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد کا منظر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے اور یہ اعلان ہونے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔

لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة انجفل الناس إليه وقيل: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فجئت في الناس لأنظر إليه.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور کہا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ چنانچہ میں بھی لوگوں کے ساتھ آیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھوں۔
📖 مسند أحمد، حدیث: 13208، ج 20، ص 430
📖 سنن الترمذی، حدیث: 2485، ج 4، ص 233

آمدِ مصطفیٰ ﷺ سے مدینہ کا خوشی سے جگمگا اٹھنا

سنن الترمذی کی ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد کے دن اہلِ مدینہ کی خوشی کا نہایت بلیغ نقشہ پیش کیا گیا ہے۔

لما كان اليوم الذى دخل فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة أضاء منها كل شيء.
جس دن حضور علیہ السلام مدینہ تشریف لائے تو آپ علیہ السلام کی تشریف آوری سے مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی۔
📖 سنن الترمذی، حدیث: 3618، ج 6، ص 17

اہلِ مدینہ کی خوشی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے امام نورالدین حلبی رحمۃ اللہ علیہ حضرت براء رضی اللہ عنہ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما کی روایات نقل کرتے ہیں کہ مدینہ والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر ایسی خوشی ہوئی جو اس سے پہلے کسی چیز پر اس قدر نہیں ہوئی تھی۔

وسرى السرور إلى القلوب بحلوله صلى الله عليه وسلم في المدينة
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ میں تشریف لانے سے لوگوں کے دلوں میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی۔
📖 انسان العیون في سیرۃ الامین المأمون، ج 2، ص 74
📖 انسان العیون، ج 3، ص 139

عورتوں کا چھتوں پر آنا اور آمدِ مصطفیٰ ﷺ کا منظر دیکھنا

اسی روایت کے تسلسل میں یہ بھی مذکور ہے کہ مدینہ کی عورتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے موقع پر گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئیں اور ایک دوسرے سے دریافت کرنے لگیں کہ ان میں سے ہمارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔

إن العواتق لفوق البيوت يتراءينه يقلن: أيهم هو؟ أيهم هو؟
عورتیں چھتوں پر چڑھ گئیں اور ایک دوسرے کو دیکھ کر پوچھتیں: دیکھو! ان میں سے کون ہے؟ ان میں سے کون ہے؟
📖 البدایۃ والنہایۃ، ج 3، ص 241
اہلِ مدینہ کی خوشی
مدینہ منورہ میں آمدِ مصطفیٰ ﷺ کے وقت اجتماعی خوشی، انتظار اور استقبال کا غیر معمولی منظر قائم تھا۔

قباء سے مدینہ تک اجتماعی قافلہ

جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم قباء سے سوار ہوکر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے تو بہت سے لوگ آپ کے ساتھ چل پڑے۔ ان میں سوار بھی تھے اور پیدل چلنے والے بھی۔ ہر شخص اس سعادت کا خواہش مند تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ کر آپ کے ساتھ چلنے کی خدمت حاصل ہوجائے۔

ولما ركب صلى الله عليه وسلم وخرج من قباء وسار سار الناس معه مابين ماش وراكب، ولازال أحدهم ينازع صاحبه زمام الناقة شحا: أي حرصا على كرامة رسول الله صلى الله عليه وسلم وتعظيما له حتى دخل المدينة.
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوکر قباء سے نکلے اور مدینے کی طرف چلے تو بہت سے آدمی بھی آپ کے ساتھ تھے، جن میں سوار بھی تھے اور پیدل بھی۔ ان میں ہر شخص دوسرے سے الجھ رہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ کر چلنے کی سعادت اسے حاصل ہو۔

امام نورالدین حلبی رحمۃ اللہ علیہ اسی واقعے کے ضمن میں اہلِ مدینہ کے اس استقبال اور خوشی کا مزید ذکر کرتے ہیں:

وصار الخدم والصبيان يقولون: الله أكبر جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء محمد صلى الله عليه وسلم ولعبت الحبشة بحرابها فرحا برسول الله صلى الله عليه وسلم.
مدینے کے لوگ اور بچے یہ کہتے جاتے تھے: اللہ اکبر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگئے، اور حبشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں نیزہ بازی کے کمالات اور کرتب دکھائے۔
📖 انسان العیون في سیرۃ الامین المأمون، ج 2، ص 79
📖 انسان العیون في سیرۃ الامین المأمون، ج 2، ص 152

ان روایات سے حاصل ہونے والا استدلال

مذکورہ روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدِ مبارک کے موقع پر اہلِ مدینہ کا اجتماعی طور پر انتظار کرنا، بار بار استقبال کے لیے نکلنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر دوڑ پڑنا، اجتماعی طور پر استقبال کرنا، خوشی و مسرت کا اظہار کرنا، گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر آمد کا منظر دیکھنا، آپ کی سواری کے گرد جمع ہونا اور قباء سے مدینہ تک آپ کے ساتھ چلنا جیسے متعدد واقعات منقول ہیں۔

اسی بنا پر مضمون نگار ان روایات سے یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدِ مبارک کے موقع پر اجتماع، استقبال، اظہارِ مسرت اور جلوس نما اجتماعی قافلے کی اصل صورتیں سیرت کے روایتی ذخیرے میں موجود ہیں۔

خلاصۂ استدلال
ان روایات میں اجتماع، انتظار، استقبال، اظہارِ مسرت اور اجتماعی قافلے کی متعدد صورتیں مذکور ہیں، جنہیں مضمون نگار جلوسِ میلاد کے جواز و اصل کے استدلال سے مربوط کرتے ہیں۔

ان روایات میں جلوس، اجتماع اور استقبال کی مختلف صورتیں موجود ہیں، جن میں شریک لوگ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدِ مبارک پر انتہائی محبت، خوشی اور عقیدت کا اظہار کر رہے تھے۔ مضمون نگار کے نزدیک جلوسِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اجتماع، استقبال، اظہارِ محبت اور خوشی کی یہی روح پائی جاتی ہے۔

آخر میں یہی عرض ہے کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اہلِ سنت کی سعادتوں اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار کا حصہ ہے۔

✍️ از قلم: احمد رضا مغل
📅 10 ربیع الاول 1447ھ، بمطابق 3 ستمبر 2025ء، بروز جمعرات
🤖 مضمون کی علمی اہمیت و افادیت

یہ مضمون سیرتِ طیبہ اور کتبِ حدیث میں وارد ان روایات کو یکجا کرتا ہے جن میں مدینہ منورہ کے اہلِ ایمان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدِ مبارک کے انتظار، استقبال، اجتماع اور اظہارِ مسرت کی مختلف صورتیں بیان ہوئی ہیں۔ مضمون کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ متعدد روایات اور سیرت کے حوالہ جات کو ایک مربوط ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جس سے قاری کو عہدِ نبوی میں استقبالِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اجتماعی مظاہر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
اس مضمون کی اہمیت اس اعتبار سے بھی ہے کہ یہ ایک معروف دینی موضوع کو محض دعوے کی صورت میں پیش کرنے کے بجائے روایات، عربی نصوص، تراجم اور حوالہ جات کے ذریعے مطالعے کے لیے سامنے لاتا ہے۔ اس سے قاری کو متعلقہ مصادر کی طرف رجوع کرنے، واقعات کو ان کے تاریخی پس منظر میں دیکھنے اور محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار کی مختلف صورتوں پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔
اس مضمون کا مطالعہ بالخصوص ان قارئین کے لیے مفید ہے جو میلاد، استقبالِ نبوی، اظہارِ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عہدِ نبوی کے اجتماعی مظاہر سے متعلق روایات کو ایک جگہ منظم انداز میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ متعدد حوالہ جات کی موجودگی اسے مزید مطالعہ اور علمی تحقیق کے لیے بھی ایک مفید نقطۂ آغاز بناتی ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔