نظریات و شعائرِ اہلِ سنت

بدعت قرار دیے جانے سے پہلے ایامِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اہل مکہ کے معمولات

✍️ مصنف: احمد رضا مغل
📅 تاریخ: 10 ربیع الاول 1448ھ، بمطابق 24 اگست 2026ء
📆 دن: پیر، عروس البلاد کراچی
⏱️ وقتِ مطالعہ: 16 منٹ
👁️ دیکھا گیا: [View Count] مرتبہ

رسولِ اکرم، خاتم النبیین، رحمۃٌ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے محبت، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر، آپ کے فضائل و شمائل کا تذکرہ اور آپ کی ولادتِ باسعادت پر اظہارِ مسرت، امتِ مسلمہ کے قلبی و ایمانی جذبات کا نہایت روشن اور نمایاں عنوان رہا ہے۔ مسلمان جہاں بھی آباد ہوئے، انہوں نے اپنے اپنے عہد، ماحول اور مقامی روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نسبت سے محبت و عقیدت کا اظہار کیا۔ خصوصاً ماہِ ربیع الاول کی آمد اور یومِ ولادتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے موقع پر مختلف اسلامی علاقوں میں ایسے معمولات پائے جاتے رہے جن میں ذکرِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم، درود و سلام، فضائل و خصائصِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا بیان، صدقہ و خیرات، اطعامِ طعام اور مقدس مقامات کی زیارت جیسے امور شامل تھے۔

عصرِ حاضر میں میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مسئلے پر گفتگو عموماً فقہی اختلاف اور بدعت کی اصطلاح کے گرد گھومتی ہے۔ لیکن کسی بھی تاریخی یا علمی مسئلے کے منصفانہ مطالعے کے لیے یہ ضروری ہے کہ بعد کے فقہی مباحث سے پہلے کے تاریخی حقائق کو بھی ان کے اصل مصادر کی روشنی میں دیکھا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ان مباحث کے نمایاں ہونے سے قبل، خصوصاً مکہ مکرمہ جیسے مرکزِ اسلام میں، ماہِ ولادتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور یومِ ولادت کے حوالے سے مسلمانوں کے معمولات کیا تھے؟ اہلِ مکہ اس دن کو کس انداز سے یاد کرتے تھے؟ کیا مولدِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت، اجتماع، ذکرِ ولادت، اطعامِ طعام اور اظہارِ مسرت جیسی روایات تاریخ میں ثبت ہیں؟

اس موضوع کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مکہ مکرمہ اسلامی تاریخ کا محض ایک شہر نہیں بلکہ اسلام کے ابتدائی اور مرکزی ترین مقامات میں سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کا مقام بھی اسی مقدس شہر میں واقع ہے، جسے تاریخ میں مولدِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نام سے یاد کیا جاتا رہا۔ متعدد مؤرخین، محدثین، سیاحوں اور اہلِ مکہ کی تاریخ قلم بند کرنے والے مصنفین نے اپنے اپنے زمانے کے مشاہدات اور منقولات میں یہ ذکر کیا ہے کہ ماہِ ربیع الاول، بالخصوص یوم یا شبِ ولادتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے موقع پر اہلِ مکہ خصوصی اہتمام کرتے تھے۔

اندلسی سیاح ابن جبیر رحمہ اللہ کے سفرنامے سے معلوم ہوتا ہے کہ ربیع الاول اور یومِ ولادت کے موقع پر مولدِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سمیت متعلقہ مقدس مقامات زائرین کے لیے کھولے جاتے اور لوگ حصولِ برکت کے لیے وہاں حاضر ہوتے تھے۔ ابن بطوطہ نے بھی اپنے مشاہدات میں یومِ ولادتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے موقع پر کعبہ معظمہ کا دروازہ کھولے جانے کا ذکر کیا ہے۔ یہ دونوں شہادتیں اس امر کی تاریخی اہمیت کو نمایاں کرتی ہیں کہ مکہ مکرمہ میں اس دن کو ایک مخصوص نسبت اور خصوصی اہتمام کے ساتھ دیکھا جاتا تھا۔

اسی طرح بعد کے مؤرخین اور اہلِ مکہ کے حالات قلم بند کرنے والے اہلِ علم، مثلاً امام سخاوی، امام جمال الدین جار اللہ قریشی مخزومی اور علامہ قطب الدین نہروالی رحمہم اللہ نے مکہ مکرمہ میں بارہ ربیع الاول کی شب کے اجتماعات، مولدِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت، قضاة و فقہاء اور دیگر معززین کی شرکت، چراغاں، شمعوں اور فانوسوں، جلوس اور دعاؤں کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ بعض روایات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس موقع پر عام لوگوں کے لیے کھانے اور مٹھائیوں کا انتظام کیا جاتا اور اہلِ مکہ اس دن کو غیر معمولی اہتمام کے ساتھ مناتے تھے۔

دوسری طرف بعض اہلِ علم نے عمومی طور پر مختلف اسلامی علاقوں میں میلاد کی مجالس، ذکرِ ولادت اور اظہارِ مسرت کا تذکرہ کیا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کا مکہ مکرمہ میں ایک مجلسِ میلاد میں اپنی موجودگی کا بیان بھی اس تاریخی سلسلے میں خاص اہمیت رکھتا ہے، جس میں درود و سلام اور ولادتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے واقعات و معجزات کے تذکرے کا ذکر ملتا ہے۔

زیرِ نظر گفتگو کا مقصد کسی فقہی اختلاف کو جذباتی انداز میں چھیڑنا یا کسی مخصوص مسلک کے خلاف مناظرہ قائم کرنا نہیں، بلکہ تاریخی مصادر میں محفوظ ان روایات کو یکجا کرکے ایک بنیادی سوال کا جائزہ لینا ہے: بدعت قرار دیے جانے کے مباحث سے پہلے ایامِ میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دوران اہلِ مکہ کے معمولات اور عادات کیا تھیں؟ اس مقصد کے لیے سیاحوں کے سفرناموں، محدثین و مؤرخین کی تصانیف اور مکہ مکرمہ کی تاریخ سے متعلق مصادر میں موجود بیانات کو سامنے رکھا جائے گا۔

مؤرخ ابن جبیر اندلسی رحمۃ اللّٰہ علیہ

فتح هذا الموضع المبارك أي منزل النبي صلى الله عليه وسلم فيدخله الناس كافة متبركين به في شهر ربيع الأول ويوم الاثنين منه، لأنه كان شهر مولد النبي صلى الله عليه وسلم، وفي اليوم المذكور الذي ولد فيه النبي صلى الله عليه وسلم تفتح المواضع المقدسة المذكورة كلها. وهو يوم مشهود بمكة دائما
اس مبارک مقام، یعنی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مولد (پیدائش کی جگہ) کو کھول دیا جاتا ہے اور ماہِ ربيع الأول اور اس کے پیر کے دن تمام لوگ برکت حاصل کرنے کے لیے اس میں داخل ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ولادت کا مہینہ ہے، اور اسی مذکورہ دن، جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ کی ولادت ہوئی، تمام مذکورہ مقدس مقامات کھول دیے جاتے ہیں۔ اور مکہ مکرمہ میں یہ دن ہمیشہ سے ایک عظیم اور تاریخی دن رہا ہے۔
📖 كتاب رحلة، ص 82، طبع دار ومكتبة الهلال، بيروت

امام أبو الفرج عبد الرحمن (ابن جوزی) رحمۃ اللّٰہ علیہ

لا زال أهل الحرمين الشريفين ومصر واليمن والشام وسائر بلاد العرب من المشرق والمغرب يحتفلون بمجلس مولد النبي صلى الله عليه وآله وسلم، ويفرحون بقدوم هلال شهر ربيع الأول ويهتمون إهتماما بليغا على السماع والقراءة لمولد النبي صلى الله عليه وآله وسلم، وينالون بذلک أجرا جزيلا وفوزا عظيم
اہل حرمین شریفین، مصر، یمن، شام اور مشرق و مغرب کے تمام عرب ممالک کے لوگ ہمیشہ سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مجلسِ میلاد کا اہتمام کرتے آئے ہیں۔ وہ ربیع الأول کے چاند کی آمد پر خوشیاں مناتے ہیں، اور میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ کے ذکر، سماعت اور تلاوت کا خاص اہتمام کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ عظیم اجر و کامرانی حاصل کرتے ہیں۔
📖 بيان المولد الشريف، ص 58

امام أبو العباس العزفي رحمۃ اللّٰہ علیہ

إن يوم المولد النبوي كان يتخذ عطلة عامة بمكة المكرمة، وتفتح فيه الكعبة المشرفة ليؤمها الزوار
میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دن مکہ مکرمہ میں عام تعطیل کے طور پر منایا جاتا تھا، اور اس دن کعبہ مشرفہ کا دروازہ زائرین کی آمد کے لیے کھول دیا جاتا تھا۔
📖 كتاب ورقات في حضارة المرينيين لمحمد المنوني، ص 517–518، طبع النجاح الجديدة، الدار البيضاء بالمغرب

سیاح ابن بطوطہ

يقول ابن بطوطة: وباب الكعبة المعظمة في الصفح الذي بين الحجر الأسود والركن العراقي ……يفتح الباب الكريم في كل يوم جمعة بعد الصلاة ويفتح في يوم مولد النبي صلى الله عليه وسلم
کعبہ معظمہ کا دروازہ، جو حجر اسود اور رکن عراقی کے درمیان ہے... ہر جمعہ کو نماز کے بعد کھولا جاتا ہے، اور اسی طرح نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے یومِ ولادت پر بھی کھولا جاتا ہے۔
📖 رحلة ابن بطوطة المسماة تحفة النظار في غرائب الامصار وعجائب الأسفار، ج 1، ص 101، طبع دار الشرق العربي

امام شمس الدين السخاوي رحمۃ اللّٰہ علیہ

وأما أهل مكة معدن الخير والبركة فيتوجهون إلى المكان المتواتر بين الناس أنه محل مولده، وهو في «سوق الليل» رجاء بلوغ كل منهم بذلك المقصد، ويزيد اهتمامهم به على يوم العيد حتى قلَّ أن يتخلف عنه أحد من صالح وطالح، ومقل وسعيد سيما «الشريف صاحب الحجاز» بدون توارٍ وحجاز. وجود قاضيها وعالمها البرهاني الشافعي ويتم إطعام غالب الواردين وكثير من القاطنين المشاهدين فاخر الأطعمة والحلوى، ويمدّ للجمهور في منزله صبيحتها سماطاً جامعاً رجاء لكشف البلوى، وتبعه ولده الجمالي في ذلك للقاطن والسالك
اہلِ مکہ، جو خیر و برکت کا سرچشمہ ہیں، اس معروف مقام کا رخ کرتے ہیں جسے لوگوں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ولادت کی جگہ جانا جاتا ہے، یعنی 'سوق اللیل' (رات کا بازار)، تاکہ ان میں سے ہر ایک کا مقصد پورا ہو سکے۔ ان کا اس دن کا اہتمام عید کے دن سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے، حتیٰ کہ نیک و بد، فقیر و امیر، بالخصوص 'شریفِ حجاز' میں سے کوئی بھی پیچھے نہیں رہتا۔ مکہ کے قاضی اور شافعی عالمِ ربانی کی موجودگی میں تمام آنے والوں اور شہریوں کو عمدہ کھانا اور مٹھائیاں کھلائی جاتی ہیں۔ اس صبح ان کے گھر پر عام لوگوں کے لیے دسترخوان بچھایا جاتا ہے، جس سے بلاؤں کے ٹلنے کی امید کی جاتی ہے۔
📖 المورد الروي في مولد النبي ونسبه الطاهر، ص 15، طبع مكتبة القرآن، عابدين، القاهرة ـ مصر

امام جمال الدين محمد جار الله المخزومي رحمۃ اللّٰہ علیہ

وجرت العادة بمكة في ليلة الاثنين عشر من ربيع الأول في كل عام أن قاضي مكة الشافعي يتهيأ لزيارة هذا المحل الشريف بعد صلاة المغرب في جمع عظيم منهم الثلاثة القضاة، وأكثر الأعيان من الفقهاء والفضلاء وذوي البيوت بفوانيس كثيرة، وشموع عظيمة، وزحام عظيم
مکہ مکرمہ میں یہ معمول رہا ہے کہ ہر سال بارہ ربیع الأول کی رات، مکہ کے شافعی قاضی، دیگر تینوں مذاہب کے قضاة، علمائے کرام، اور معززینِ شہر کے ایک عظیم اجتماع کے ساتھ، بے شمار فانوسوں اور بڑی بڑی شمعوں کے ساتھ اس مقدس مقام کی زیارت کے لیے تیار ہوتے تھے...
📖 الجامع اللطيف في فضل مكه و اهلها و بناء البيت الشريف، ص 201–202، طبع دار إحياء الكتب العربي

امام علامہ قطب الدين النهروالي الحنفی رحمۃ اللّٰہ علیہ

يزار مولد النبي صلى الله عليه وآله وسلم المكاني في الليلة الثانية عشر من شهر ربيع الأول في كل عام، فيجتمع الفقهاء والأعيان على نظام المسجد الحرام والقضاة الأربعة بمكة المشرفة بعد صلاة المغرب بالشموع الكثيرة والمفرغات والفوانيس والمشاغل وجميع المشائخ مع طوائفهم بالأعلام الكثيرة ويخرجون من المسجد إلى سوق الليل ويمشون فيه إلى محل المولد الشريف بازدحام ويخطب فيه شخص ويدعو للسلطنة الشريفة، ثم يعودون إلى المسجد الحرام ويجلسون صفوفاً في وسط المسجد من جهة الباب الشريف خلف مقام الشافعية ويقف رئيس زمزم بين يدي ناظر الحرم الشريف والقضاة ويدعو للسلطان ويلبسه الناظر خلعة ويلبس شيخ الفراشين خلعة. ثم يؤذّن للعشاء ويصلي الناس على عادتهم، ثم يمشي الفقهاء مع ناظر الحرم إلى الباب الذي يخرج منه من المسجد، ثم يتفرّقون. وهذه من أعظم مواكب ناظر الحرم الشريف بمكة المشرفة ويأتي الناس من البدو والحضر وأهل جدة، وسكان الأودية في تلك الليلة ويفرحون بها
ہر سال بارہ ربیع الأول کی رات کو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مولدِ مکانی کی زیارت کی جاتی ہے۔ نمازِ مغرب کے بعد فقہاء، معززین، چاروں مذاہب کے قضاة، اور تمام شیوخ اپنے اپنے گروہوں کے ساتھ بکثرت شمعوں، فانوسوں اور پرچموں کے ساتھ مسجدِ حرام سے نکل کر سوق اللیل کی طرف جلوس کی صورت میں جاتے ہیں۔ وہاں خطبہ دیا جاتا ہے اور سلطنت کے لیے دعا کی جاتی ہے۔ پھر وہ مسجدِ حرام واپس آتے ہیں، ناظرِ حرم اور قضاة دعا کرتے ہیں، خلعتیں تقسیم کی جاتی ہیں، اور پھر لوگ حسبِ معمول نمازِ عشاء ادا کرتے ہیں۔ اس رات دیہاتوں، جدہ اور وادیوں سے لوگ آکر خوشیاں مناتے ہیں۔
📖 الإعلام باعلام بيت الله الحرام في تاريخ مكة المشرفة، ص 355–356، المكتبة العلمية بمكة المكرمة ـ السعودية

امام محدث شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ الله علیہ

وکنت قبل ذلک بمکة المعظمة في مولد النبي صلى الله عليه وآله وسلم في يوم ولادته، والناس يصلون على النبي صلى الله عليه وآله وسلم ويذکرون إرهاصاته التي ظهرت في ولادته ومشاهده قبل بعثته، فرأيت أنواراً سطعت دفعة واحدة لا أقول إني أدرکتها ببصر الجسد، ولا أقول أدرکتها ببصر الروح فقط، وﷲ أعلم کيف کان الأمر بين هذا وذلک، فتأملت تلک الأنوار فوجدتها من قبل الملائکة الموکلين بأمثال هذه المشاهد وبأمثال هذه المجالس، ورأيت يخالط أنوار الملائکة أنوار الرحمة
میں اس سے قبل مکہ مکرمہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے یومِ ولادت پر محفلِ میلاد میں موجود تھا، جہاں لوگ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر درود پڑھ رہے تھے اور آپ کی ولادت کے وقت ظاہر ہونے والے معجزات کا ذکر کر رہے تھے۔ میں نے اچانک کچھ انوار کو چمکتے ہوئے دیکھا—میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے انہیں صرف جسمانی آنکھ سے دیکھا، اور نہ ہی صرف روحانی آنکھ سے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جب میں نے ان انوار پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ ان فرشتوں کے انوار تھے جو اس طرح کے مناظر اور مجالس پر مقرر ہوتے ہیں، اور میں نے دیکھا کہ فرشتوں کے انوار میں انوارِ رحمت شامل ہو رہے تھے۔
📖 فيوض الحرمين، ص 80–81، طبع مكتبة القرآن محل، کراچی، پاکستان

امام یوسف بن اسماعیل نبھانی رحمۃ اللّٰہ علیہ

امام یوسف بن اسماعیل نبهانی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:

وإنما حدث بعدها بالمقاصد الحسنة، والنية التي للإخلاص شاملة، ثم لا زال أهل الإسلام في سائر الأقطار والمدن العظام يحتفلون في شهر مولده وشرف وكرم بعمل الولائم البديعة، والمطاعم المشتملة علي الأمور البهية والبديعة، ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات، ويظهرون المسرات ويزيدون في المبرات، بل يعتنون بقرابة مولده الكريم، ويظهر عليهم من بركاته کل فضل عظیم عمیم
(محفلِ میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم) قرونِ ثلاثہ کے بعد صرف نیک مقاصد کے لیے شروع ہوئی اور جہاں تک اس کے انعقاد میں نیت کا تعلق ہے تو وہ اخلاص پر مبنی تھی۔ پھر ہمیشہ سے جملہ اہل اسلام تمام ممالک اور بڑے بڑے شہروں میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے مہینے میں محافلِ میلاد منعقد کرتے چلے آرہے ہیں اور اس کے معیار اور عزت و شرف کو عمدہ ضیافتوں اور خوبصورت طعام گاہوں (دستر خوانوں) کے ذریعہ برقرار رکھا۔ اب بھی ماہِ میلاد کی راتوں میں طرح طرح کے صدقات و خیرات دیتے ہیں اور خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرتے ہیں۔ بلکہ جونہی ماہِ میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قریب آتا ہے خصوصی اہتمام شروع کر دیتے ہیں اور نتیجتاً اس ماہِ مقدس کی برکات اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے فضل کی صورت میں ان پر ظاہر ہوتی ہیں۔
📖 حجۃ اللّٰہ علی العالمین فی معجزات سید المرسلین، ص 233–234

حضرت علامہ مفتی عنایت اللہ کاکوروی رحمۃ اللّٰہ علیہ

مفتی محمد عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللّٰہ علیہ لکھتے ہیں:

"حرمین شریفین اور اکثر بلادِ اسلام میں عادت ہے کہ ماہِ ربیع الاول میں محفلِ میلاد شریف کرتے ہیں اور مسلمانوں کو مجتمع کر کے ذکرِ مولود شریف کرتے ہیں اور کثرتِ درود کی کرتے ہیں، اور بہ طور دعوت کے کھانا یا شیرینی تقسیم کرتے ہیں۔ سو یہ امر موجبِ برکاتِ عظیمہ ہے اور سبب ہے اِزدیادِ محبت کا ساتھ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ بارہویں ربیع الاول کو مدینہ منورہ میں یہ متبرک محفل مسجدِ نبوی شریف میں ہوتی ہے اور مکہ معظمہ میں مکانِ ولادتِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں۔"
📖 تواریخِ حبیبِ الٰہ، ص 14–15

سابقہ حوالہ جات کا مجموعی جائزہ

جیسا کہ سابقہ حوالہ جات (ابن جبیر، ابن بطوطہ، امام سخاوی، امام ابن جوزی، شاہ ولی اللہ دہلوی، امام نبھانی اور مفتی عنایت اللہ کاکوری) سے ظاہر ہوتا ہے، قرونِ وسطیٰ اور بعد کے ادوار میں اسلامی دنیا کے بڑے مراکز (خصوصاً مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، اور قاہرہ) میں 12 ربیع الأول کو ایک اہم اور خوشی کے دن کے طور پر منایا جاتا تھا۔

مزید یہ کہ مکہ مکرمہ میں آلِ سعود کی حکومت اور نجد و حجاز کے الائنس سے قبل (عثمانی دور حکومت میں)، 12 ربیع الأول کو سرکاری سطح پر توپیں چلا کر سلامی دی جاتی تھی اور شریفِ مکہ خود جلوسوں کی قیادت کرتے تھے۔ تاہم، بیسویں صدی کی دہائی (1920ء) کے بعد جب حجاز کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل ہوا، تو سعودی عرب کی سرکاری پالیسی اور ہیئة الأمر بالمعروف (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) کے تحت تمام عوامی اجتماعات اور خصوصی میلاد کی تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی، اور اس جگہ (مولد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کو لائبریری میں تبدیل کر دیا گیا اور اسے بدعت قرار دے دیا گیا العیاذ باللہ

✍️ از قلم: احمد رضا مغل
📅 بتاریخ: 10 ربیع الاول 1448 بمطابق 24 آگست 2026 بروز پیر عروس البلاد کراچی
🤖 مضمون کی علمی اہمیت و افادیت

زیرِ نظر مضمون ایک اہم تاریخی و علمی موضوع کو مصادر و مراجع کی روشنی میں سامنے لانے کی قابلِ قدر کوشش ہے۔ مضمون نگار احمد رضا مغل صاحب نے مختلف ادوار کے مؤرخین، محدثین، سیاحوں اور اہلِ علم کے بیانات کو یکجا کرکے ایک ایسے موضوع کا تاریخی پس منظر واضح کرنے کی کوشش کی ہے جس پر عصرِ حاضر میں عموماً فقہی اور مسلکی زاویۂ نظر سے گفتگو کی جاتی ہے۔

مضمون کی نمایاں خوبی اس کا ماخذی اندازِ استدلال ہے۔ ابن جبیر، ابن بطوطہ، امام سخاوی، امام جمال الدین جار اللہ، علامہ قطب الدین نہروالی، شاہ ولی اللہ دہلوی، امام نبھانی اور دیگر اہلِ علم کے بیانات کو اصل عربی عبارات، اردو تراجم اور حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جس سے قاری کو مختلف تاریخی شہادتوں کا ایک مربوط مطالعہ میسر آتا ہے۔

اس تحریر کی ایک اہم علمی افادیت یہ ہے کہ اس میں مکہ مکرمہ جیسے مرکزی اسلامی شہر کے تاریخی معمولات کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ مولدِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت، اجتماعات، ذکرِ ولادت، درود و سلام، اطعامِ طعام، صدقات و خیرات، چراغاں، جلوس اور اظہارِ مسرت جیسے مختلف پہلوؤں کو متعدد تاریخی حوالہ جات کے ذریعے سامنے لایا گیا ہے، جس سے قاری کو موضوع کے تاریخی تناظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

مضمون کا طرزِ استدلال اس اعتبار سے بھی قابلِ توجہ ہے کہ مصنف نے ایک ہی ماخذ پر اکتفا کرنے کے بجائے مختلف زمانوں اور مختلف نوعیت کے مصادر سے شہادتیں جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طریقۂ کار سے قاری کو مزید مطالعے اور اصل کتب کی طرف رجوع کا موقع ملتا ہے اور موضوع پر ایک وسیع تر تحقیقی نظر پیدا ہوتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ تحریر میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے متعلق تاریخی معمولات کے مطالعے کے لیے ایک مفید مطالعاتی مواد فراہم کرتی ہے۔ بالخصوص تاریخِ مکہ، سیرتِ نبوی، اسلامی تہذیبی روایت اور میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تاریخی پس منظر میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ مضمون مزید تحقیق و مطالعہ کا ایک مفید نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔