بدعت قرار دیے جانے سے پہلے ایامِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اہل مکہ کے معمولات
رسولِ اکرم، خاتم النبیین، رحمۃٌ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے محبت، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر، آپ کے فضائل و شمائل کا تذکرہ اور آپ کی ولادتِ باسعادت پر اظہارِ مسرت، امتِ مسلمہ کے قلبی و ایمانی جذبات کا نہایت روشن اور نمایاں عنوان رہا ہے۔ مسلمان جہاں بھی آباد ہوئے، انہوں نے اپنے اپنے عہد، ماحول اور مقامی روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نسبت سے محبت و عقیدت کا اظہار کیا۔ خصوصاً ماہِ ربیع الاول کی آمد اور یومِ ولادتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے موقع پر مختلف اسلامی علاقوں میں ایسے معمولات پائے جاتے رہے جن میں ذکرِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم، درود و سلام، فضائل و خصائصِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا بیان، صدقہ و خیرات، اطعامِ طعام اور مقدس مقامات کی زیارت جیسے امور شامل تھے۔
عصرِ حاضر میں میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مسئلے پر گفتگو عموماً فقہی اختلاف اور بدعت کی اصطلاح کے گرد گھومتی ہے۔ لیکن کسی بھی تاریخی یا علمی مسئلے کے منصفانہ مطالعے کے لیے یہ ضروری ہے کہ بعد کے فقہی مباحث سے پہلے کے تاریخی حقائق کو بھی ان کے اصل مصادر کی روشنی میں دیکھا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ان مباحث کے نمایاں ہونے سے قبل، خصوصاً مکہ مکرمہ جیسے مرکزِ اسلام میں، ماہِ ولادتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور یومِ ولادت کے حوالے سے مسلمانوں کے معمولات کیا تھے؟ اہلِ مکہ اس دن کو کس انداز سے یاد کرتے تھے؟ کیا مولدِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت، اجتماع، ذکرِ ولادت، اطعامِ طعام اور اظہارِ مسرت جیسی روایات تاریخ میں ثبت ہیں؟
اس موضوع کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مکہ مکرمہ اسلامی تاریخ کا محض ایک شہر نہیں بلکہ اسلام کے ابتدائی اور مرکزی ترین مقامات میں سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کا مقام بھی اسی مقدس شہر میں واقع ہے، جسے تاریخ میں مولدِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نام سے یاد کیا جاتا رہا۔ متعدد مؤرخین، محدثین، سیاحوں اور اہلِ مکہ کی تاریخ قلم بند کرنے والے مصنفین نے اپنے اپنے زمانے کے مشاہدات اور منقولات میں یہ ذکر کیا ہے کہ ماہِ ربیع الاول، بالخصوص یوم یا شبِ ولادتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے موقع پر اہلِ مکہ خصوصی اہتمام کرتے تھے۔
اندلسی سیاح ابن جبیر رحمہ اللہ کے سفرنامے سے معلوم ہوتا ہے کہ ربیع الاول اور یومِ ولادت کے موقع پر مولدِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سمیت متعلقہ مقدس مقامات زائرین کے لیے کھولے جاتے اور لوگ حصولِ برکت کے لیے وہاں حاضر ہوتے تھے۔ ابن بطوطہ نے بھی اپنے مشاہدات میں یومِ ولادتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے موقع پر کعبہ معظمہ کا دروازہ کھولے جانے کا ذکر کیا ہے۔ یہ دونوں شہادتیں اس امر کی تاریخی اہمیت کو نمایاں کرتی ہیں کہ مکہ مکرمہ میں اس دن کو ایک مخصوص نسبت اور خصوصی اہتمام کے ساتھ دیکھا جاتا تھا۔
اسی طرح بعد کے مؤرخین اور اہلِ مکہ کے حالات قلم بند کرنے والے اہلِ علم، مثلاً امام سخاوی، امام جمال الدین جار اللہ قریشی مخزومی اور علامہ قطب الدین نہروالی رحمہم اللہ نے مکہ مکرمہ میں بارہ ربیع الاول کی شب کے اجتماعات، مولدِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت، قضاة و فقہاء اور دیگر معززین کی شرکت، چراغاں، شمعوں اور فانوسوں، جلوس اور دعاؤں کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ بعض روایات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس موقع پر عام لوگوں کے لیے کھانے اور مٹھائیوں کا انتظام کیا جاتا اور اہلِ مکہ اس دن کو غیر معمولی اہتمام کے ساتھ مناتے تھے۔
دوسری طرف بعض اہلِ علم نے عمومی طور پر مختلف اسلامی علاقوں میں میلاد کی مجالس، ذکرِ ولادت اور اظہارِ مسرت کا تذکرہ کیا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کا مکہ مکرمہ میں ایک مجلسِ میلاد میں اپنی موجودگی کا بیان بھی اس تاریخی سلسلے میں خاص اہمیت رکھتا ہے، جس میں درود و سلام اور ولادتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے واقعات و معجزات کے تذکرے کا ذکر ملتا ہے۔
زیرِ نظر گفتگو کا مقصد کسی فقہی اختلاف کو جذباتی انداز میں چھیڑنا یا کسی مخصوص مسلک کے خلاف مناظرہ قائم کرنا نہیں، بلکہ تاریخی مصادر میں محفوظ ان روایات کو یکجا کرکے ایک بنیادی سوال کا جائزہ لینا ہے: بدعت قرار دیے جانے کے مباحث سے پہلے ایامِ میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دوران اہلِ مکہ کے معمولات اور عادات کیا تھیں؟ اس مقصد کے لیے سیاحوں کے سفرناموں، محدثین و مؤرخین کی تصانیف اور مکہ مکرمہ کی تاریخ سے متعلق مصادر میں موجود بیانات کو سامنے رکھا جائے گا۔
مؤرخ ابن جبیر اندلسی رحمۃ اللّٰہ علیہ
امام أبو الفرج عبد الرحمن (ابن جوزی) رحمۃ اللّٰہ علیہ
امام أبو العباس العزفي رحمۃ اللّٰہ علیہ
سیاح ابن بطوطہ
امام شمس الدين السخاوي رحمۃ اللّٰہ علیہ
امام جمال الدين محمد جار الله المخزومي رحمۃ اللّٰہ علیہ
امام علامہ قطب الدين النهروالي الحنفی رحمۃ اللّٰہ علیہ
امام محدث شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ الله علیہ
امام یوسف بن اسماعیل نبھانی رحمۃ اللّٰہ علیہ
امام یوسف بن اسماعیل نبهانی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:
حضرت علامہ مفتی عنایت اللہ کاکوروی رحمۃ اللّٰہ علیہ
مفتی محمد عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللّٰہ علیہ لکھتے ہیں:
سابقہ حوالہ جات کا مجموعی جائزہ
جیسا کہ سابقہ حوالہ جات (ابن جبیر، ابن بطوطہ، امام سخاوی، امام ابن جوزی، شاہ ولی اللہ دہلوی، امام نبھانی اور مفتی عنایت اللہ کاکوری) سے ظاہر ہوتا ہے، قرونِ وسطیٰ اور بعد کے ادوار میں اسلامی دنیا کے بڑے مراکز (خصوصاً مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، اور قاہرہ) میں 12 ربیع الأول کو ایک اہم اور خوشی کے دن کے طور پر منایا جاتا تھا۔
مزید یہ کہ مکہ مکرمہ میں آلِ سعود کی حکومت اور نجد و حجاز کے الائنس سے قبل (عثمانی دور حکومت میں)، 12 ربیع الأول کو سرکاری سطح پر توپیں چلا کر سلامی دی جاتی تھی اور شریفِ مکہ خود جلوسوں کی قیادت کرتے تھے۔ تاہم، بیسویں صدی کی دہائی (1920ء) کے بعد جب حجاز کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل ہوا، تو سعودی عرب کی سرکاری پالیسی اور ہیئة الأمر بالمعروف (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) کے تحت تمام عوامی اجتماعات اور خصوصی میلاد کی تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی، اور اس جگہ (مولد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کو لائبریری میں تبدیل کر دیا گیا اور اسے بدعت قرار دے دیا گیا العیاذ باللہ
📅 بتاریخ: 10 ربیع الاول 1448 بمطابق 24 آگست 2026 بروز پیر عروس البلاد کراچی
زیرِ نظر مضمون ایک اہم تاریخی و علمی موضوع کو مصادر و مراجع کی روشنی میں
سامنے لانے کی قابلِ قدر کوشش ہے۔ مضمون نگار احمد رضا مغل صاحب نے
مختلف ادوار کے مؤرخین، محدثین، سیاحوں اور اہلِ علم کے بیانات کو یکجا
کرکے ایک ایسے موضوع کا تاریخی پس منظر واضح کرنے کی کوشش کی ہے جس پر
عصرِ حاضر میں عموماً فقہی اور مسلکی زاویۂ نظر سے گفتگو کی جاتی ہے۔
مضمون کی نمایاں خوبی اس کا ماخذی اندازِ استدلال ہے۔ ابن جبیر، ابن بطوطہ،
امام سخاوی، امام جمال الدین جار اللہ، علامہ قطب الدین نہروالی، شاہ ولی
اللہ دہلوی، امام نبھانی اور دیگر اہلِ علم کے بیانات کو اصل عربی عبارات،
اردو تراجم اور حوالہ جات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جس سے قاری کو مختلف
تاریخی شہادتوں کا ایک مربوط مطالعہ میسر آتا ہے۔
اس تحریر کی ایک اہم علمی افادیت یہ ہے کہ اس میں مکہ مکرمہ جیسے مرکزی
اسلامی شہر کے تاریخی معمولات کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ مولدِ نبوی
صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت، اجتماعات، ذکرِ ولادت، درود و سلام،
اطعامِ طعام، صدقات و خیرات، چراغاں، جلوس اور اظہارِ مسرت جیسے مختلف
پہلوؤں کو متعدد تاریخی حوالہ جات کے ذریعے سامنے لایا گیا ہے، جس سے
قاری کو موضوع کے تاریخی تناظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
مضمون کا طرزِ استدلال اس اعتبار سے بھی قابلِ توجہ ہے کہ مصنف نے ایک
ہی ماخذ پر اکتفا کرنے کے بجائے مختلف زمانوں اور مختلف نوعیت کے مصادر
سے شہادتیں جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طریقۂ کار سے قاری کو مزید
مطالعے اور اصل کتب کی طرف رجوع کا موقع ملتا ہے اور موضوع پر ایک وسیع
تر تحقیقی نظر پیدا ہوتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ تحریر میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے متعلق
تاریخی معمولات کے مطالعے کے لیے ایک مفید مطالعاتی مواد فراہم کرتی ہے۔
بالخصوص تاریخِ مکہ، سیرتِ نبوی، اسلامی تہذیبی روایت اور میلاد النبی
صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تاریخی پس منظر میں دلچسپی رکھنے والے قارئین
کے لیے یہ مضمون مزید تحقیق و مطالعہ کا ایک مفید نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔
