اخلاق

CHAPTER 07

اخلاق

آپ ﷺ کے بعض اخلاقِ کریمانہ کا بیان
آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ اور عفو و درگزر

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق آپ ﷺ کے اخلاق قرآنِ کریم تھے۔ آپ ﷺ اس بات پر غضب ناک ہوتے جس پر قرآن غضب ناک ہوتا اور اس بات پر راضی ہوتے جس پر قرآن راضی ہوتا۔ (١)

آپ ﷺ اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہ لیتے، البتہ جب اللہ تعالیٰ کی حرمت پامال کی جاتی تو اللہ تعالیٰ کے لیے انتقام لیتے۔ اور جب آپ ﷺ غضب ناک ہوتے تو کوئی شخص آپ کے غضب کے مقابلے میں کھڑا نہ ہو سکتا تھا۔

آپ ﷺ کی شجاعت، سخاوت اور صداقت

آپ ﷺ سب سے زیادہ بہادر، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ فیاض تھے۔ آپ ﷺ سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی، آپ ﷺ کبھی ’’نہیں‘‘ نہ فرماتے۔

آپ ﷺ کے گھر میں کبھی کوئی دینار یا درہم رات نہ گزارتا۔

آپ ﷺ سب سے زیادہ سچی گفتگو کرنے والے، وعدے اور عہد کو سب سے بڑھ کر پورا کرنے والے اور نرم مزاج تھے۔ (٢)(٣)

آپ ﷺ کا حسنِ معاشرت اور صحابہ کے ساتھ حسنِ سلوک

آپ ﷺ حسنِ معاشرت میں سب سے بڑھ کر، سب سے زیادہ بردبار، سب سے زیادہ باحیا، لوگوں میں سب سے زیادہ متواضع، سب سے زیادہ رحم دل اور سب سے زیادہ پاک دامن تھے۔ اپنے صحابہ کے ساتھ انتہائی عزت و اکرام سے پیش آتے۔

جو شخص آپ ﷺ سے ملتا، آپ ﷺ خود اسے سلام میں پہل فرماتے۔ اپنے صحابہ کا حال دریافت فرماتے اور ان کے بارے میں پوچھتے رہتے۔ ان کے بیماروں کی عیادت فرماتے، ان کے جنازوں میں شریک ہوتے اور ان کے لیے دعا فرماتے۔

آپ ﷺ ان کے باغات میں بھی تشریف لے جاتے، ان کی دعوت قبول فرماتے اور ہدیہ قبول فرماتے، خواہ وہ جلی ہوئی بکری کا ایک معمولی سا پائے ہی کیوں نہ ہو۔ (٤)

آپ ﷺ معذرت قبول فرماتے اور اپنے غلاموں کے ساتھ کھانے پینے اور لباس کے معاملے میں اپنے آپ کو ان سے بلند نہیں سمجھتے تھے۔

آپ ﷺ کی تواضع اور خادموں کے ساتھ حسنِ سلوک

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال آپ ﷺ کی خدمت کی، لیکن آپ ﷺ نے مجھے کبھی ’’اُف‘‘ تک نہیں کہا، نہ یہ فرمایا کہ تم نے یہ کیوں کیا، اور نہ یہ کہ تم نے یہ کیوں نہیں کیا۔ (٥)

آپ ﷺ اپنی اونٹنی کو چارہ کھلاتے اور اسے باندھتے، گدھے پر سوار ہوتے اور کسی کو اپنے پیچھے بٹھا لیتے۔ مجلس میں جہاں جگہ ملتی، وہیں بیٹھ جاتے اور کسی مخصوص جگہ کو اپنے لیے مقرر نہیں کرتے تھے۔ (٦)

آپ ﷺ کسی شخص سے اس انداز میں گفتگو نہ فرماتے جسے وہ ناپسند کرے، اپنے مہمان کی عزت کرتے اور اپنے پڑوسی کا خیال رکھتے۔

کھانے کے بعد آپ ﷺ کی دعا

جب آپ ﷺ کے سامنے سے کھانا اٹھا لیا جاتا تو آپ ﷺ فرماتے:

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ

ترجمہ:
’’تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔‘‘ (٧)

اس کے علاوہ بھی آپ ﷺ کے بے شمار اخلاقِ حمیدہ اور اوصافِ کریمانہ تھے جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔

ذِكْرُ بَعْضِ أَخْلَاقِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ

كَانَ كَمَا قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:
«كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ، يَغْضَبُ لِغَضَبِهِ، وَيَرْضَى لِرِضَاهُ». (١)

وَلَا يَنْتَقِمُ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ، وَإِذَا غَضِبَ لَا يَقُومُ لِغَضَبِهِ أَحَدٌ.

وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ، وَأَسْخَاهُمْ، وَأَجْوَدَهُمْ، مَا سُئِلَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ: لَا.

وَلَا يَبِيتُ فِي بَيْتِهِ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ.

وَأَصْدَقَ النَّاسِ لَهْجَةً، (٢) وَأَوْفَاهُمْ بِذِمَّةٍ، وَأَلْيَنَهُمْ عَرِيكَةً. (٣)

وَأَكْرَمَهُمْ عِشْرَةً، وَأَحْلَمَ النَّاسِ، وَأَشَدَّهُمْ حَيَاءً، وَأَكْثَرَ النَّاسِ تَوَاضُعًا، وَأَرْحَمَ النَّاسِ، وَأَعَفَّ النَّاسِ، وَأَشَدَّهُمْ إِكْرَامًا لِأَصْحَابِهِ.

فَيَبْدَأُ مَنْ لَقِيَهُ بِالسَّلَامِ، وَيَتَفَقَّدُ أَصْحَابَهُ وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ، وَيَعُودُ مَرِيضَهُمْ، وَيَشْهَدُ جَنَازَتَهُمْ وَيَدْعُو لَهُمْ، وَيَخْرُجُ لِبَسَاتِينِهِمْ، وَيَأْكُلُ ضِيَافَتَهُمْ، وَيَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَلَوْ كَانَتْ كُرَاعَ شَاةٍ مُحْرَقَةً. (٤)

وَيَقْبَلُ الْمَعْذِرَةَ، وَلَا يَتَرَفَّعُ عَلَى عَبِيدِهِ فِي مَأْكَلٍ وَلَا مَلْبَسٍ.

قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ:
«خَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي: أُفًّا قَطُّ، وَلَا لِمَ فَعَلْتَ، وَلَا لِمَ لَمْ تَفْعَلْ». (٥)

وَيَعْلِفُ نَاقَتَهُ وَيَعْقِلُهَا، وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ وَيُرْدِفُ عَلَيْهِ، وَيَجْلِسُ حَيْثُ انْتَهَى بِهِ الْمَجْلِسُ، وَلَا يُوَطِّنُ الْأَمَاكِنَ. (٦)

وَلَا يُقَابِلُ أَحَدًا بِمَا يَكْرَهُ، وَيُكْرِمُ ضَيْفَهُ، وَيَحْفَظُ جَارَهُ.

وَإِذَا رُفِعَ الطَّعَامُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ قَالَ:

«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ». (٧)

إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا لَا يُحْصَى مِنَ الْأَخْلَاقِ الْحَمِيدَةِ.

1 حاشیہ

أَخْرَجَهُ بِهَذَا اللَّفْظِ الْبَيْهَقِيُّ فِي الشُّعَبِ ١٤٢٨، وَأَخْرَجَهُ بِنَحْوِهِ أَحْمَدُ ٥٤/٦، وَأَبُو الشَّيْخِ فِي أَخْلَاقِ النَّبِيِّ وَآدَابِهِ ح ٢٢، وَالْحَاكِمُ ٦١٣/٢، وَصَحَّحَهُ وَوَافَقَهُ الذَّهَبِيُّ.

یہ روایت اسی لفظ کے ساتھ بیہقی نے ’’الشعب‘‘ میں، حدیث ۱۴۲۸، اور اسی مفہوم کے ساتھ امام احمد نے ۶/۵۴، ابو الشیخ نے ’’أخلاق النبي وآدابه‘‘ میں حدیث ۲۲، اور حاکم نے ۲/۶۱۳ میں روایت کی ہے۔ حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور امام ذہبی نے بھی ان کی موافقت کی ہے۔

2 حاشیہ

فِي الْأَصْلِ: «بَهْجَةٌ»، وَهُوَ خَطَأٌ، وَاللَّهْجَةُ اللِّسَانُ، أَيْ كَانَ أَصْدَقَهُمْ قَوْلًا.

اصل نسخے میں ’’بہجہ‘‘ کا لفظ ہے، جو درست نہیں۔ یہاں درست لفظ ’’لہجہ‘‘ ہے۔ لہجہ سے مراد زبان اور طرزِ گفتگو ہے؛ یعنی آپ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سچی گفتگو کرنے والے تھے۔

3 حاشیہ

الْعَرِيكَةُ: الطَّبِيعَةُ، يُقَالُ: فُلَانٌ لَيِّنُ الْعَرِيكَةِ إِذَا كَانَ سَلِسًا مُطَاوِعًا مُنْقَادًا قَلِيلَ الْخِلَافِ وَالنُّفُورِ.

عریکہ سے مراد طبیعت ہے۔ نرم مزاج اس شخص کو کہا جاتا ہے جو نرم خو، مان لینے والا، فرمان بردار اور کم اختلاف و نفرت کرنے والا ہو۔

4 حاشیہ

الْكُرَاعُ: مَا دُونَ الرُّكْبَةِ مِنَ السَّاقِ.

کُراع سے مراد پنڈلی کا وہ حصہ ہے جو گھٹنے کے نیچے ہوتا ہے، یعنی بکری کی ٹانگ کا نچلا حصہ۔

5 حاشیہ

الْبُخَارِيُّ ح ٦٠٣٨ وَمُسْلِمٌ ح ٢٣٠٩.

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث ۶۰۳۸؛ صحیح مسلم، حدیث ۲۳۰۹۔

6 حاشیہ

أَيْ: لَا يَتَّخِذُ مَجْلِسًا يُعْرَفُ بِهِ.

یعنی آپ ﷺ اپنے لیے مجلس میں کوئی مخصوص جگہ مقرر نہیں فرماتے تھے جس کی وجہ سے آپ ﷺ کی نشست پہچانی جائے۔

التِّرْمِذِيُّ ح ٣٤٥٣، وَأَبُو دَاوُدَ ح ٣٥٨٠.

حوالہ: سنن ترمذی، حدیث ۳۴۵۳؛ سنن ابی داود، حدیث ۳۵۸۰۔

اوپر تک سکرول کریں۔