اولاد
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں حضرت قاسم رضی اللہ عنہ تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کنیت انہی کی نسبت سے ابوالقاسم تھی۔
اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ تھے، جنہیں طیب اور طاہر بھی کہا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک طیب ایک دوسرے فرزند کا نام تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادیاں حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہن تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام اولاد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہی میں وفات پا گئی، سوائے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے۔ ان کا وصال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے چھ ماہ بعد ہوا۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ ان کے ہاں حضرت حسن، حضرت حسین اور حضرت محسن رضی اللہ عنہم پیدا ہوئے۔ حضرت محسن رضی اللہ عنہ بچپن ہی میں وفات پا گئے، جبکہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی اولاد ہی سے تمام شرفاء(سادات) کا سلسلہ چلا۔
حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما دونوں کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوا اور دونوں یکے بعد دیگرے ان کی زوجیت میں وفات پا گئیں۔ اسی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ذوالنورین کہا گیا۔
ذِكْرُ أَوْلَادِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ
الْقَاسِمُ، وَبِهِ كَانَ يُكَنَّى.
وَعَبْدُ اللهِ، وَيُسَمَّى: الطَّيِّبَ وَالطَّاهِرَ، وَقِيلَ: الطَّيِّبُ وَلَدٌ آخَرُ.
وَزَيْنَبُ، وَرُقَيَّةُ، وَأُمُّ كُلْثُومٍ، وَفَاطِمَةُ، وَإِبْرَاهِيمُ.
وَمَاتُوا كُلُّهُمْ فِي حَيَاتِهِ إِلَّا فَاطِمَةَ، مَاتَتْ بَعْدَهُ بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ، وَزَوَّجَهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. وَلَدَتْ لَهُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَمُحَسِّنًا، فَأَمَّا مُحَسِّنٌ فَمَاتَ رَضِيعًا، وَأَمَّا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ فَمِنْهُمَا جَمِيعُ الشُّرَفَاءِ.
وَأَمَّا رُقَيَّةُ وَأُمُّ كُلْثُومٍ فَمَاتَتَا عِنْدَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاحِدَةً بَعْدَ وَاحِدَةٍ، وَلِذَلِكَ سُمِّيَ ذَا النُّورَيْنِ.
