ذکرِ مبعث
ذکرِ مبعث اور بعثت کے بعد کے بعض واقعات
جب نبی کریم ﷺ کی عمرِ مبارک چالیس سال ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بشیر و نذیر بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ جب غارِ حرا میں تھے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام رسالت لے کر حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے فرمایا: اپنے رب کے نام سے پڑھیے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک: اُس نے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ یہی وہ پہلی وحی تھی جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی۔ یہ پیر کے دن، ربیع الاول کی آٹھ تاریخ کو نازل ہوئی، اگرچہ اس کے علاوہ بھی ایک قول ہے۔ پھر جس نے ایمان لانا تھا وہ ایمان لے آیا اور جس نے کفر کرنا تھا اس نے کفر کیا۔
سب سے پہلے ایمان لانے والے
خواتین میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ایمان لائیں، بچوں میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، مردوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، اور موالی میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے ایمان لائے۔
شعبِ ابی طالب میں محاصرہ
اہلِ مکہ نے نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے اہلِ بیت کو شعب میں تین سال یا اس سے کچھ کم عرصہ محصور رکھا۔ پھر آپ ﷺ اپنے اہلِ بیت کے ساتھ وہاں سے باہر تشریف لائے۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر انچاس سال تھی۔
حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا وصال
آپ ﷺ کی عمر پچاس سال ہوئی تو آپ ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب کا انتقال ہوگیا، اور ان کے تین دن بعد آپ ﷺ کی زوجۂ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا بھی وصال ہوگیا۔
اسراء و معراج
جب آپ ﷺ کی عمر اکیاون سال اور نو ماہ ہوئی تو آپ ﷺ کو زمزم اور مقامِ ابراہیم کے درمیان سے بیت المقدس تک لے جایا گیا، پھر براق کے ذریعے آپ ﷺ کو آسمان کی طرف لے جایا گیا اور پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔
ہجرتِ مدینہ
جب آپ ﷺ کی عمر ترپن سال ہوئی تو آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ یہ وہ رات تھی جس میں اہلِ مکہ نے آپ ﷺ کو قتل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان سے محفوظ رکھا۔ آپ ﷺ کے رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ دونوں حضرات غار میں تین راتیں پوشیدہ رہے۔
پھر آپ ﷺ پیر کے دن مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور وہاں دس سال قیام فرمایا۔
وصالِ مبارک
نبی کریم ﷺ کا وصالِ مبارک پیر کے دن، ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو، چاشت کے وقت، ماہِ فروری میں ہوا۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر تریسٹھ سال تھی۔
آپ ﷺ کو بدھ کی رات آپ ﷺ کی زوجۂ محترمہ، ہماری ماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں دفن کیا گیا۔ آپ ﷺ اپنے مرضِ وصال کے بعد چودہ دن کے عرصے میں وصال فرما گئے۔ ان میں سے بعض تاریخوں میں اختلاف ہے جسے ہم نے ذکر نہیں کیا۔
غزوات اور سرایا
آپ ﷺ کے غزوات کی تعداد ستائیس تھی، جن میں سے نو غزوات میں باقاعدہ قتال ہوا۔
رہے آپ ﷺ کے بعوث اور سرایا، تو ان کی تعداد پچاس تھی۔
حج اور عمرے
فرضِ حج سے پہلے آپ ﷺ نے دو مرتبہ حج کیا، اور فرض ہونے کے بعد ایک مرتبہ حج فرمایا، جو حجۃ الوداع تھا۔
اور آپ ﷺ نے چار عمرے کیے، اور یہ سب ذوالقعدہ میں تھے۔
ذِكْرُ مَبْعَثِهِ ﷺ وَشَيْءٌ مِنْ أَخْبَارِهِ إِلَى أَنْ تُوُفِّيَ
وَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ عَامًا بَعَثَهُ اللهُ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ بِالرِّسَالَةِ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءَ، فَقَالَ لَهُ: «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ» إِلَى قَوْلِهِ: ﴿عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾، وَهِيَ أَوَّلُ مَا نَزَلَ عَلَيْهِ، يَوْمَ الِاثْنَيْنِ الثَّامِنِ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ، وَقِيلَ غَيْرُهُ. فَآمَنَ بِهِ مَنْ آمَنَ، وَكَفَرَ بِهِ مَنْ كَفَرَ.
أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِهِ
فَأَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِهِ مِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَمِنَ الصِّبْيَانِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَمِنَ الرِّجَالِ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَمِنَ الْمَوَالِي ① زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ.
الْحَصْرُ فِي الشِّعْبِ
وَحَصَرَهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَهْلُ مَكَّةَ فِي الشِّعْبِ ② ثَلَاثَةَ أَعْوَامٍ أَوْ أَقَلَّ، فَخَرَجَ مِنْهُ هُوَ وَأَهْلُ بَيْتِهِ وَعُمْرُهُ تِسْعَةٌ وَأَرْبَعُونَ عَامًا.
وَفَاةُ أَبِي طَالِبٍ وَخَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا
وَفِي عَامِ خَمْسِينَ مِنْ عُمْرِهِ مَاتَ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ، وَمَاتَتْ زَوْجَتُهُ خَدِيجَةُ بَعْدَ عَمِّهِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ.
الْإِسْرَاءُ وَالْمِعْرَاجُ
فَلَمَّا بَلَغَ أَحَدًا وَخَمْسِينَ عَامًا وَتِسْعَةَ أَشْهُرٍ، أُسْرِيَ بِهِ بَيْنَ زَمْزَمَ وَالْمَقَامِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَعُرِجَ بِهِ عَلَى الْبُرَاقِ إِلَى السَّمَاءِ، وَفُرِضَتِ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ.
الْهِجْرَةُ إِلَى الْمَدِينَةِ
وَلَمَّا بَلَغَ ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ عَامًا، هَاجَرَ مِنْ مَكَّةَ لِلْمَدِينَةِ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي اتَّفَقَ فِيهَا أَهْلُ مَكَّةَ عَلَى قَتْلِهِ، فَعَصَمَهُ اللهُ مِنْهُمْ، وَرَفِيقُهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، فَاخْتَفَيَا فِي الْغَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ.
فَدَخَلَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، فَأَقَامَ بِهَا عَشْرَ سِنِينَ.
وَفَاتُهُ ﷺ
وَتُوُفِّيَ ﷺ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، الثَّانِيَ عَشَرَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ، فِي وَقْتِ الضُّحَى، فِي شَهْرِ فِبْرَايِرَ، وَعُمْرُهُ ثَلَاثَةٌ وَسِتُّونَ عَامًا.
وَدُفِنَ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ فِي بَيْتِ زَوْجَتِهِ أُمِّنَا عَائِشَةَ، وَفِيهِ تُوُفِّيَ بَعْدَ مَرَضِهِ أَرْبَعَةَ عَشَرَ يَوْمًا، وَفِي بَعْضِ هَذِهِ التَّوَارِيخِ خِلَافٌ لَمْ نَذْكُرْهُ.
غَزَوَاتُهُ وَبُعُوثُهُ وَسَرَايَاهُ
وَكَانَتْ غَزَوَاتُهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ غَزْوَةً، وَقَعَ الْقِتَالُ فِي تِسْعٍ مِنْهَا ③.
وَأَمَّا بُعُوثُهُ وَالسَّرَايَا فَخَمْسُونَ.
حَجُّهُ وَعُمْرَتُهُ ﷺ
وَحَجَّ قَبْلَ فَرْضِ الْحَجِّ مَرَّتَيْنِ، وَبَعْدَ الْفَرْضِ مَرَّةً، وَهِيَ حَجَّةُ الْوَدَاعِ.
وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلُّهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ.
المَوَالِي: العَبِيدُ.
موالی: اس سے مراد غلام ہیں۔
الشِّعْبُ: وَاحِدُ شِعَابِ مَكَّةَ، وَهِيَ الْوِهَادُ وَالطُّرُقَاتُ بَيْنَ الْجِبَالِ. وَالْمُرَادُ بِهِ هُنَا شِعْبُ بَنِي هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ. قَالَ ابْنُ سَيِّدِ النَّاسِ الْيَعْمَرِيُّ فِي عُيُونِ الْأَثَرِ (١/١٤٧): «ثُمَّ إِنَّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ، وَاتَّفَقَ رَأْيُهُمْ عَلَى قَتْلِ رَسُولِ اللهِ ﷺ، وَقَالُوا: قَدْ أَفْسَدَ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا. فَقَالُوا لِقَوْمِهِ: خُذُوا مِنَّا دِيَةً مُضَاعَفَةً، وَلْيَقْتُلْهُ رَجُلٌ مِنْ غَيْرِ قُرَيْشٍ، وَتُرِيحُونَنَا وَتُرِيحُونَ أَنْفُسَكُمْ. فَأَبَى قَوْمُ بَنِي هَاشِمٍ مِنْ ذَلِكَ، فَظَاهَرَهُمْ بَنُو الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ. فَأَجْمَعَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى مُنَابَذَتِهِمْ وَإِخْرَاجِهِمْ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الشِّعْبِ. فَلَمَّا دَخَلُوا الشِّعْبَ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَنْ كَانَ بِمَكَّةَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ يَخْرُجُوا إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ. وَدَخَلَ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شِعْبَهُمْ مُؤْمِنُهُمْ وَكَافِرُهُمْ؛ فَالْمُؤْمِنُ دِينًا، وَالْكَافِرُ حَمِيَّةً. فَلَمَّا عَرَفَتْ قُرَيْشٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَدْ مَنَعَهُ قَوْمُهُ أَجْمَعُوا عَلَى أَنْ لَا يُبَايِعُوهُمْ، وَلَا يَدْخُلُوا إِلَيْهِمْ شَيْئًا مِنَ الرِّفْقِ، وَقَطَعُوا عَنْهُمُ الْأَسْوَاقَ، وَلَمْ يَتْرُكُوا طَعَامًا وَلَا إِدَامًا وَلَا بَيْعًا إِلَّا بَادَرُوا إِلَيْهِ وَاشْتَرَوْهُ دُونَهُمْ، وَلَا يُنَاكِحُوهُمْ، وَلَا يَقْبَلُوا مِنْهُمْ صُلْحًا أَبَدًا، وَلَا تَأْخُذُهُمْ بِهِمْ رَأْفَةٌ حَتَّى يُسَلِّمُوا رَسُولَ اللهِ ﷺ لِلْقَتْلِ. وَكَتَبُوا بِذَلِكَ صَحِيفَةً وَعَلَّقُوهَا فِي الْكَعْبَةِ. وَتَمَادَوْا عَلَى الْعَمَلِ بِمَا فِيهَا ثَلَاثَ سِنِينَ، فَاشْتَدَّ الْبَلَاءُ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ فِي شِعْبِهِمْ، وَعَلَى كُلِّ مَنْ مَعَهُمْ».
شِعب: یہ مکہ کے شِعاب کی واحد ہے، اور شِعاب سے مراد پہاڑوں کے درمیان واقع نشیبی جگہیں اور راستے ہیں۔ یہاں شِعب سے مراد بنو ہاشم بن عبد مناف کی گھاٹی ہے۔
ابنِ سید الناس یعمری نے «عیون الأثر» (۱/۱۴۷) میں لکھا ہے:
«پھر قریش کے کافروں نے اپنے تمام معاملات پر اتفاق کر لیا اور رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے پر اپنی رائے متفق کر لی۔ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے ہمارے بیٹوں اور ہماری عورتوں کو بگاڑ دیا ہے۔ پھر انہوں نے آپ ﷺ کے خاندان والوں سے کہا: ہم تمہیں دگنی دیت دے دیتے ہیں، اور اسے قریش کے علاوہ کسی دوسرے شخص سے قتل کروا دو؛ اس طرح تم ہمیں بھی راحت پہنچاؤ گے اور اپنے آپ کو بھی۔
لیکن بنو ہاشم نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا، تو بنو ہاشم کی مدد اور حمایت کے لیے بنو مطّلب بن عبد مناف بھی ان کے ساتھ ہو گئے۔ چنانچہ قریش کے مشرکین نے متفق ہو کر ان سے قطع تعلق کرنے اور انہیں مکہ سے نکال کر شِعب میں محصور کر دینے کا فیصلہ کر لیا۔
جب وہ شِعب میں داخل ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں موجود اہلِ ایمان کو حکم دیا کہ وہ سرزمینِ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔ اور بنو ہاشم اور بنو مطّلب اپنے تمام افراد سمیت، خواہ وہ مسلمان تھے یا کافر، اپنی اس گھاٹی میں داخل ہو گئے؛ ان میں مسلمان اپنے دین کی وجہ سے اور کافر خاندانی حمیت کی وجہ سے ان کے ساتھ تھے۔
جب قریش کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کو آپ کے خاندان والوں نے اپنی حفاظت میں لے لیا ہے تو انہوں نے باہمی طور پر یہ عہد کر لیا کہ نہ ان لوگوں سے خرید و فروخت کریں گے، نہ ان تک کسی قسم کی آسائش یا ضروری سامان پہنچنے دیں گے۔ ان سے بازار کا تعلق بھی منقطع کر دیا۔ وہ کھانے پینے کی کوئی چیز، سالن یا دوسری اشیاء اور کوئی سامانِ تجارت بھی ایسا نہیں چھوڑتے تھے کہ وہ ان لوگوں تک پہنچ سکے، بلکہ فوراً اسے خرید لیتے تھے تاکہ وہ ان کے ہاتھ نہ آ سکے۔ وہ ان سے نکاح و ازدواج کا تعلق بھی نہیں رکھیں گے، کبھی ان سے صلح قبول نہیں کریں گے، اور ان کے بارے میں کسی قسم کی رحم دلی نہیں کریں گے، یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو قتل کے لیے ان کے حوالے کر دیں۔
انہوں نے اس مضمون کی ایک تحریر لکھی اور اسے کعبہ میں لٹکا دیا۔ پھر تین سال تک اس تحریر میں درج عہد پر عمل کرتے رہے۔ چنانچہ بنو ہاشم اور ان کے ساتھ موجود تمام لوگوں پر ان کے شِعب میں سخت آزمائش اور مصیبت نازل ہوئی۔»
قَاتَلَ مِنْهَا فِي تِسْعٍ: بَدْرٍ، وَأُحُدٍ، وَالْمُرَيْسِيعِ، وَالْخَنْدَقِ، وَقُرَيْظَةَ، وَخَيْبَرَ، وَالْفَتْحِ، وَحُنَيْنٍ، وَالطَّائِفِ. وَقَدْ قِيلَ: إِنَّهُ قَاتَلَ فِي بَنِي النَّضِيرِ، وَفِي غَزْوَةِ وَادِي الْقُرَى، وَفِي الْغَابَةِ. (الوفا بأحوال المصطفى لابن الجوزي ٢/٦٧٣)
ان میں سے نو غزوات میں آپ ﷺ نے بنفسِ نفیس قتال فرمایا: بدر، اُحد، مریسیع، خندق، قریظہ، خیبر، فتحِ مکہ، حنین اور طائف۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے بنو نضیر، غزوۂ وادی القریٰ اور غابہ میں بھی قتال فرمایا۔ (الوفا بأحوال المصطفى، ابن الجوزی، 2/673)
