نبی کریم ﷺ کی ولادت و ابتدائی حالات
ولادت و ابتدائی نشأت
نبی کریم ﷺ کی ولادت پیر کے دن، 12 ربیع الاول، عامُ الفیل میں، ماہِ اپریل میں ہوئی۔ آپ ﷺ کے والدِ محترم آپ ﷺ کی ولادت سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے اور آپ ﷺ اپنی والدہ ماجدہ کے بطنِ مبارک میں تھے۔ آپ ﷺ کو حضرت حلیمہ بنت ابی ذؤیب سعدیہ رضی اللہ عنہا نے دودھ پلایا۔
آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ کا وصال اس وقت ہوا جب آپ ﷺ کی عمر چار سال تھی، اور آپ ﷺ کی پرورش آپ ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے فرمائی۔
جب آپ ﷺ کی عمر آٹھ سال اور دو ماہ ہوئی تو آپ ﷺ کے دادا کا بھی وصال ہوگیا، چنانچہ آپ ﷺ کی کفالت آپ ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب نے سنبھال لی۔
شام کا پہلا سفر اور بحیرا راہب
جب آپ ﷺ کی عمر بارہ سال ہوئی تو آپ ﷺ اپنے چچا کے ساتھ شام کے سفر پر گئے۔ راستے میں ایک راہب نے آپ ﷺ کو دیکھا، جس کا نام بحیرا تھا۔ اس نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہ تمام جہانوں کے سردار ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمائے گا۔ ہم اپنی کتاب میں ان کی صفات پہچانتے ہیں، اور میں نے پتھروں اور درختوں کو دیکھا ہے کہ وہ ان کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔ انہیں واپس لے جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ شام میں یہودی انہیں قتل کر دیں، کیونکہ وہ ان کے دشمن ہیں۔
چنانچہ آپ ﷺ کے چچا آپ ﷺ کو واپس لے آئے۔
دوسرا سفرِ شام اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح
اس کے بعد آپ ﷺ دوبارہ شام تشریف لے گئے۔ یہ سفر حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی تجارت کے سلسلے میں تھا اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے غلام میسرہ بھی تھے۔ اس وقت تک آپ ﷺ کا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح نہیں ہوا تھا۔ میسرہ نے آپ ﷺ کے ساتھ بہت سے عجائبات دیکھے اور واپس آکر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ان کا ذکر کیا۔ چنانچہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی طرف راغب ہوئیں اور آپ ﷺ سے نکاح کرلیا۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر پچیس سال تھی۔
تعمیرِ کعبہ اور حجرِ اسود کا فیصلہ
جب آپ ﷺ کی عمر تیس سال ہوئی تو قریش نے کعبہ کو ازسرِنو تعمیر کرنے کے لیے اسے منہدم کیا۔ حجرِ اسود کے معاملے میں ان کے درمیان اختلاف ہوگیا۔ ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ حجرِ اسود کو اپنی جگہ رکھنے کا شرف اسے حاصل ہو۔
آخرکار آپ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے حجرِ اسود کو اس کی جگہ رکھا۔ اس سے پہلے آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ حجرِ اسود کو ایک چادر میں رکھ کر اٹھائیں، اور ہر قبیلے کے لوگ اس چادر کے ایک ایک کنارے کو پکڑیں۔ سب لوگ اس تجویز پر راضی ہوگئے اور باہمی اختلاف ختم کرکے صلح کرلی۔
وِلَادَتُهُ وَنَشْأَتُهُ وَذِكْرُ شَيْءٍ مِنْ أَخْبَارِهِ ﷺ قَبْلَ بَعْثَتِهِ
وُلِدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، الثَّانِيَ عَشَرَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعِ الْأَوَّلِ، عَامَ الْفِيلِ، فِي شَهْرِ أَبْرِيلَ. تُوُفِّيَ أَبُوهُ وَتَرَكَهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، أَرْضَعَتْهُ حَلِيمَةُ بِنْتُ أَبِي ذُؤَيْبٍ الْمَسْعُودِيَّةُ ①.
وَتُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِ سِنِينَ، وَرَبَّاهُ جَدُّهُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ.
فَلَمَّا بَلَغَ ثَمَانِيَةَ أَعْوَامٍ وَشَهْرَيْنِ تُوُفِّيَ جَدُّهُ، فَتَوَلَّاهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ.
وَسَفَرُهُ إِلَى الشَّامِ وَقِصَّةُ بَحِيرَى الرَّاهِبِ
وَلَمَّا بَلَغَ اثْنَيْ عَشَرَ عَامًا سَافَرَ بِهِ عَمُّهُ إِلَى الشَّامِ، فَرَآهُ فِي الطَّرِيقِ رَاهِبٌ اسْمُهُ بَحِيرَى، فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَقَالَ: «هَذَا سَيِّدُ الْعَالَمِينَ، يَبْعَثُهُ اللهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، نَعْرِفُ صِفَتَهُ فِي كِتَابِنَا، وَرَأَيْتُ الْأَحْجَارَ وَالْأَشْجَارَ تَسْجُدُ لَهُ، رُدُّوهُ لِئَلَّا تَقْتُلَهُ الْيَهُودُ بِالشَّامِ، فَإِنَّهُمْ أَعْدَاؤُهُ». فَرَدَّهُ عَمُّهُ.
وَسَافَرَ إِلَى الشَّامِ مَرَّةً أُخْرَى مَعَ مَيْسَرَةَ غُلَامِ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ فِي تِجَارَةٍ لَهَا قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، فَرَأَى مَعَهُ مَيْسَرَةُ عَجَائِبَ كَثِيرَةً، فَحَدَّثَ بِهَا خَدِيجَةَ، فَرَغِبَتْ فِيهِ فَتَزَوَّجَهَا، وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ عَامًا.
وَبِنَاءُ الْكَعْبَةِ وَقَضِيَّةُ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ
وَلَمَّا بَلَغَ ثَلَاثِينَ عَامًا هَدَمَتْ قُرَيْشٌ الْكَعْبَةَ لِيُجَدِّدُوهَا، فَتَحَارَبُوا عَلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ، كُلُّ حِزْبٍ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَوَلَّوْا وَضْعَهُ فِي مَوْضِعِهِ، فَوَضَعَهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِيَدِهِ، بَعْدَ أَنْ أَمَرَهُمْ أَنْ يَرْفَعُوهُ فِي كِسَاءٍ، يَأْخُذُ كُلُّ حِزْبٍ مِنْهُمْ بِأَحَدِ أَطْرَافِهِ، فَرَضُوا بِذَلِكَ وَاصْطَلَحُوا.
الْمَعْرُوفُ فِي نِسْبَتِهَا «السَّعْدِيَّةُ» نِسْبَةً إِلَى جَدِّهَا سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ.
اس نسبت کے بارے میں معروف قول «سعدیہ» ہے، جو ان کے جد سعد بن مالک کی طرف نسبت ہے۔
