ذکر صفات
آپ ﷺ درمیانہ قد رکھتے تھے؛ نہ بہت زیادہ دراز قد تھے اور نہ پست قامت۔ دونوں مبارک کندھوں کے درمیان کشادگی تھی۔ رنگت نہایت روشن و سفید تھی، جس میں سرخی کی آمیزش تھی۔ آپ ﷺ کے موئے مبارک کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔ جب عمرِ مبارک میں سفیدی ظاہر ہوئی تو سرِ اقدس اور ریشِ مبارک میں سفید بالوں کی تعداد بیس سے زیادہ نہ تھی۔
آپ ﷺ کا چہرۂ انور چودھویں رات کے چاند کی مانند جگمگاتا اور دمکتا تھا۔ آپ ﷺ کی خلقت بھی حسین و متناسب تھی اور اخلاق بھی نہایت حسین و معتدل تھے۔ گفتگو نہایت شیریں اور دل نشیں تھی۔ آواز میں ہلکی سی بھاری پن کی کیفیت تھی، اور آواز بلند اور واضح تھی۔ دونوں رخسار ہموار تھے۔ دہنِ مبارک کشادہ تھا، دانتوں میں سفیدی، چمک اور خوب صورت فاصلہ تھا۔ پیشانی کشادہ تھی۔ ابرو کمان دار اور لمبے تھے، لیکن دونوں ابرو باہم پیوست نہ تھے۔ ناکِ مبارک بلند، باریک اور درمیان سے قدرے ابھری ہوئی تھی۔ آنکھوں کے سفید حصے میں ہلکی سی سرخی تھی۔ دونوں دستِ مبارک کشادہ اور مضبوط تھے، انگلیاں دراز اور سیدھی تھیں، اور دونوں قدم مبارک صاف اور ہموار تھے۔
آپ ﷺ کے موئے مبارک سیدھے اور گھنے تھے، جن میں ہلکی سی لہریں اور شکنیں تھیں۔ قامتِ مبارک نہایت متناسب اور خوب صورت تھا۔ آپ ﷺ تیز رفتاری سے چلتے تھے۔ دونوں بازوؤں پر بال تھے۔ گردن کے نچلے حصے سے نافِ مبارک تک ایک باریک لکیر کی مانند بال تھے۔ آپ ﷺ کا شکم اور سینۂ مبارک یکساں اور متناسب تھا۔ جسمِ اقدس مضبوط اور متماسک تھا، اور آپ ﷺ کی ذاتِ مبارک پر وقار اور بہاء نمایاں تھا۔
آپ ﷺ کا حلیہ بیان کرنے والا کہتا ہے:
’’میں نے آپ ﷺ سے پہلے اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔‘‘
مہرِ نبوت آپ ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان تھی۔ وہ حجَلَہ کے بٹن اور کبوتر کے انڈے کے مانند تھی۔ اس پر چند چھوٹے چھوٹے بال تھے، اور وہ آپ ﷺ کے بائیں کندھے کی نچلی جانب واقع تھی۔
ذِكْرُ بَعْضِ صِفَاتِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ
كَانَ رَبْعَةً، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، أَبْيَضَ اللَّوْنِ مُشْرَبًا بِحُمْرَةٍ، يَبْلُغُ شَعَرُهُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، وَحِينَ شَابَ لَمْ يَبْلُغِ الشَّيْبُ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرِينَ شَعْرَةً.
وَكَانَ يَتَلَأْلَأُ وَجْهُهُ (١) كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، حَسَنَ الْخَلْقِ وَالْخُلُقِ مُعْتَدِلَهُمَا، حُلْوَ الْمَنْطِقِ، فِي صَوْتِهِ صَحَلٌ (٢)، جَهِيرَ الصَّوْتِ (٣)، سَهْلَ الْخَدَّيْنِ (٤)، ضَلِيعَ (٥) الْفَمِ، أَشْنَبَ (٦) مُفَلَّجَ (٧) الْأَسْنَانِ، وَاسِعَ الْجَبِينِ، أَزَجَّ (٨) الْحَوَاجِبِ فِي غَيْرِ قَرَنٍ (٩)، أَقْنَى الْعِرْنِينِ (١٠)، أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ (١١) فِي بَيَاضِهِمَا حُمْرَةٌ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ (١٢)، سَبْطَ الْبَنَانِ (١٣)، مَسِيحَ الْقَدَمَيْنِ (١٤)، سَبْطَ الشَّعْرِ (١٥) فِيهِ تَكَسُّرٌ، حَسَنَ الْقَدِّ، سَرِيعَ الْخُطُوِ، أَشْعَرَ الذِّرَاعَيْنِ، بَيْنَ نَحْرِهِ وَسُرَّتِهِ شَعَرٌ يَجْرِي كَالْخَيْطِ، سَوَاءَ الْبَطْنِ وَالصَّدْرِ، مُتَمَاسِكَ الْبَدَنِ، عَلَيْهِ الْوَقَارُ وَالْبَهَاءُ.
يَقُولُ وَاصِفُهُ: لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ.
خَاتَمُ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، وَهِيَ مِثْلُ زِرِّ الْحَجَلَةِ (١٦) وَبَيْضَةِ الْحَمَامِ، عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ صِغَارٌ، يَمِيلُ إِلَى أَسْفَلَ نَغْضِ (١٧) كَتِفِهِ الْأَيْسَرِ.
يَتَلَأْلَأُ وَجْهُهُ: يَسْتَنِيرُ وَيَشْرُقُ، مَأْخُوذٌ مِنَ اللُّؤْلُؤِ.
آپ ﷺ کا چہرۂ انور روشن اور منور ہوتا تھا۔ یہ تعبیر ’’لؤلؤ‘‘ سے ماخوذ ہے۔
الصَّحَلُ كَالْبُحَّةِ، وَأَلَّا يَكُونَ حَادَّ الصَّوْتِ.
آواز میں بھاری پن کی کیفیت، یعنی آواز بہت تیز اور نوکیلی نہ ہو۔
جَهِيرُ الصَّوْت: جَهَرَ بِالْقَوْلِ إِذَا رَفَعَ صَوْتَهُ، فَهُوَ جَهِيرٌ.
جب کوئی شخص اپنی آواز بلند کرے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے بلند آواز سے کلام کیا؛ لہٰذا جَهِيرُ الصَّوْت سے مراد بلند آواز والا ہے۔
أَيْ: سَهْلُ الْخَدَّيْنِ، غَيْرُ مُرْتَفِعِ الْوَجْنَتَيْنِ.
یعنی دونوں رخسار ہموار تھے اور گالوں کی ہڈیاں ابھری ہوئی نہ تھیں۔
الضَّلِيعُ: الْعَظِيمُ.
یعنی عظیم، بڑا اور کشادہ۔
الشَّنَبُ: الْبَيَاضُ وَالْبَرِيقُ وَالتَّحْدِيدُ فِي الْأَسْنَانِ.
یعنی دانتوں کی سفیدی، چمک اور خوب صورت تراش و بناوٹ کو کہتے ہیں۔
الْفَلَجُ: تَبَاعُدُ مَا بَيْنَ الثَّنَايَا وَالرَّبَاعِيَّاتِ.
یعنی سامنے کے ثنایا اور رباعیات دانتوں کے درمیان قدرے فاصلہ ہونے کو کہتے ہیں۔
الزَّجَجُ: تَقَوُّسٌ فِي الْحَاجِبِ، مَعَ طُولٍ فِي أَطْرَافِهِ وَسُبُوغٍ.
یعنی ابرو کا کمان کی طرح خم دار ہونا، اس کے کناروں کا لمبا ہونا اور اس کا بھرپور و مکمل ہونا۔
الْقَرَنُ: الْتِقَاءُ الْحَاجِبَيْنِ.
یعنی دونوں ابروؤں کا آپس میں مل جانا۔
الْقَنَا فِي الْأَنْفِ: طُولُهُ وَرِقَّةُ أَرْنَبَتِهِ، مَعَ حَدَبٍ فِي وَسَطِهِ. وَالْعِرْنِينُ: الْأَنْفُ.
ناک کا لمبا اور اس کی نوک کا باریک ہونا، جبکہ درمیان میں ہلکا سا ابھار ہو۔ عِرْنِین: ناک کو کہتے ہیں۔
أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ: أَيْ فِي بَيَاضِهِمَا شَيْءٌ مِنَ الْحُمْرَةِ، وَهُوَ مَحْمُودٌ مَحْبُوبٌ.
یعنی دونوں آنکھوں کے سفید حصے میں ہلکی سی سرخی ہو، اور یہ کیفیت قابلِ تعریف اور پسندیدہ سمجھی جاتی ہے۔
شَثِنُ الْكَفَّيْنِ: وَاسِعُ الرَّاحَتَيْنِ قَوِيُّهُمَا.
دونوں ہتھیلیاں کشادہ اور مضبوط تھیں۔
أَيْ: مُمْتَدُّ الْأَصَابِعِ، وَالْبَنَانُ هِيَ الْأَصَابِعُ.
یعنی انگلیاں دراز اور سیدھی تھیں۔ بَنان سے مراد انگلیاں ہیں۔
الْمَسِيحُ: الْأَمْلَسُ، أَيْ لَيْسَ فِيهِمَا شِقَاقٌ وَلَا وَسَخٌ وَلَا تَكَسُّرٌ.
صاف اور ہموار؛ یعنی دونوں قدموں میں نہ دراڑیں تھیں، نہ میل کچیل اور نہ شکن یا کھردرا پن۔
السَّبْطُ مِنَ الشَّعَرِ: الْمُسْتَرْسِلُ، لَا جُعُودَةَ فِيهِ.
یعنی ایسے بال جو سیدھے اور لٹکتے ہوئے ہوں، ان میں گھنگریالاپن نہ ہو۔
الْحَجَلَةُ: بَيْتٌ كَالْقُبَّةِ يُسْتَرُ بِالثِّيَابِ، وَتَكُونُ لَهُ أَزْرَارٌ كِبَارٌ، وَتُجْمَعُ عَلَى حِجَالٍ.
قبّے کی مانند ایک گھر یا حجرہ ہوتا ہے جسے کپڑوں سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ اس کے بڑے بڑے بٹن ہوتے ہیں، اور اس کی جمع حِجَال آتی ہے۔
النُّغْضُ وَالنَّغْضُ وَالنَّاغِضُ: أَعْلَى الْكَتِفِ، وَقِيلَ: هُوَ الْعَظْمُ الرَّقِيقُ الَّذِي عَلَى طَرَفِهِ.
النَّغْض: کندھے کے اوپری حصے کو کہتے ہیں۔ بعض اہلِ لغت کے نزدیک اس سے مراد وہ باریک ہڈی ہے جو کندھے کے سرے پر واقع ہوتی ہے۔
