اسماء

CHAPTER 06

اسماء

آپ ﷺ کے بعض اسمائے مبارکہ کا ذکر

آپ ﷺ نے اپنے بعض اسمائے مبارکہ بیان فرماتے ہوئے فرمایا:

میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں، یعنی اللہ تعالیٰ میرے ذریعے کفر کو مٹائے گا۔ میں حاشر ہوں، یعنی وہ ذات جس کے بعد لوگوں کو جمع کیا جائے گا، اور میں عاقب ہوں، یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میں مقفّی ہوں، توبہ کے نبی ہوں، رحمت کے نبی ہوں اور ملحمہ کے نبی ہوں۔

قرآنِ کریم میں بھی آپ ﷺ کے بہت سے اسمائے مبارکہ مذکور ہیں۔

ذِكْرُ بَعْضِ أَسْمَائِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ

قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ (١):
أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ، وَأَنَا الْعَاقِبُ فَلَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَأَنَا الْمُقَفِّي، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ، وَنَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ (١).

وَفِي الْقُرْآنِ مِنْ أَسْمَائِهِ كَثِيرٌ.

1 حاشیہ

هَذَا حَدِيثٌ مُلَفَّقٌ مِنْ مَجْمُوعَةِ أَحَادِيثٍ فِي أَسْمَائِهِ.

رَاجِعِ الْبُخَارِيَّ: ح ٣٥٣٢، وَمُسْلِمًا: ح ٢٣٥٤ وَ٢٣٥٥، وَأَحْمَدَ: ٤/٤٠٤ وَ٥/٤٠٥.

الْمُقَفِّي: الذَّاهِبُ الْمُوَلِّي، فَكَأَنَّ الْمَعْنَى أَنَّهُ ﷺ آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِذَا قَفَّى فَلَا نَبِيَّ بَعْدَهُ.

وَقِيلَ: الْمُقَفِّي أَيْ الْمُتَّبِعُ، أَرَادَ أَنَّهُ ﷺ مُتَّبِعُ النَّبِيِّينَ.

وَالْعَاقِبُ: الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ.

وَنَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ: لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَضَ عَلَيْهِ جِهَادَ الْكُفَّارِ، وَجَعَلَهُ شَرِيعَةً بَاقِيَةً إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ.

وَقَالَ عَلِيُّ الْقَارِيُّ فِي شَرْحِ الشِّفَاءِ (٢/٦٣٤):

«لَا تَعَارُضَ بَيْنَ كَوْنِهِ ﷺ رَسُولَ الرَّحْمَةِ وَرَسُولَ الْمَلْحَمَةِ، إِذْ هُوَ سِلْمٌ لِأَوْلِيَائِهِ، حَرْبٌ لِأَعْدَائِهِ».

یہ حدیث دراصل نبی کریم ﷺ کے اسمائے مبارکہ کے بارے میں مختلف احادیث سے مرتب کی گئی عبارت ہے۔

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 3532؛ صحیح مسلم، احادیث 2354 اور 2355؛ مسند احمد، 4/404 اور 5/405۔

مُقَفّی سے مراد وہ ذات بھی لی گئی ہے جو آخر میں آنے والی ہو؛ اس اعتبار سے معنی یہ ہے کہ آپ ﷺ تمام انبیاء علیہم السلام کے آخری نبی ہیں، اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ ایک قول کے مطابق مقفّی کے معنی متبع کے ہیں، یعنی آپ ﷺ سابقہ انبیاء علیہم السلام کی تصدیق و اتباع کرنے والے ہیں۔

عاقب سے مراد وہ ذات ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔

نبیُّ الملحمہ کہنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر کفار کے خلاف جہاد فرض فرمایا اور اسے قیامت تک باقی رہنے والی شریعت کا حصہ قرار دیا۔

علامہ علی قاری رحمہ اللہ نے شرح الشفا (2/634) میں فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کے رسولِ رحمت اور رسولِ ملحمہ ہونے میں کوئی تعارض نہیں؛ کیونکہ آپ ﷺ اپنے اولیاء کے لیے سراپا امن و سلامتی ہیں اور اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ان کے خلاف جنگ کرنے والے ہیں۔

اوپر تک سکرول کریں۔