رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سواریاں

CHAPTER 19

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سواریاں

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھوڑوں، خچروں، گدھے، اونٹوں اور بکریوں کا ذکر
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھوڑے

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھوڑوں میں السَّكْبُ، الْمُرْتَجِزُ، لِزَازٌ 1، اللُّخَيْفُ، الظَّرِبُ، الْوَرْدُ، الضَّرِيسُ 2، مُلَاوِحُ 3 اور سَبْحَةُ شامل تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچروں میں دُلْدُلُ 4 شامل تھی، اور یہ اسلام میں سواری کے لیے استعمال ہونے والی پہلی خچر تھی۔ اس کے علاوہ فِضَّةُ اور أُيَلِيَّةُ بھی تھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گدھا

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک گدھا تھا جس کا نام يَعْفُورُ تھا اور اس کا نام يَزِيدُ بْنُ شِهَابٍ 6 بھی بیان کیا گیا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مویشی

گائے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی جانور نہیں تھا۔

رہے اونٹ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس الْغَابَةُ 7 میں بیس دودھ دینے والی اونٹنیاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک مَهْرِيَّةٌ 8 بھی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ اونٹنی بھی تھی جس کا نام الْقَصْوَاءُ تھا، اور اسی پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت فرمائی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو قصواء کے سوا کوئی دوسری سواری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں اٹھاتی تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس الْعَضْبَاءُ اور الْجَدْعَاءُ نامی اونٹنیاں بھی تھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سو بکریاں تھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ایسی بکری بھی تھی جس کا دودھ پینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مخصوص تھا، اس کا نام غَيْثَةَ [٩] تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک سفید رنگ کا مرغ بھی تھا۔

ذِكْرُ دَوَابِّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ

أَمَّا الْخَيْلُ فَمِنْهَا:

السَّكْبُ، وَالْمُرْتَجِزُ، وَلِزَازٌ [١]، وَاللُّخَيْفُ، وَالظَّرِبُ، وَالْوَرْدُ، وَالضَّرِيسُ [٢]، وَمُلَاوِحُ [٣]، وَسَبْحَةُ.

وَأَمَّا الْبِغَالُ:

دُلْدُلُ [٤]، وَهِيَ أَوَّلُ بَغْلَةٍ رُكِبَتْ فِي الْإِسْلَامِ، وَفِضَّةُ وَأُيَلِيَّةُ.

وَأَمَّا الْحَمِيرُ: فَكَانَ لَهُ حِمَارٌ يُقَالُ لَهُ يَعْفُورُ، وَاسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ شِهَابٍ [٥].

وَأَمَّا النَّعَمُ فَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ مِنَ الْبَقَرِ.

وَأَمَّا الْإِبِلُ فَلَهُ عِشْرُونَ لِقْحَةً [٦] بِالْغَابَةِ [٧]، وَعِنْدَهُ مَهْرِيَّةٌ [٨]، وَلَهُ نَاقَتُهُ الَّتِي تُسَمَّى الْقَصْوَاءَ، وَهِيَ الَّتِي هَاجَرَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ لَا يَحْمِلُهُ إِلَّا الْقَصْوَاءُ. وَلَهُ الْعَضْبَاءُ، وَالْجَدْعَاءُ.

1 حاشیہ

فِي الْأَصْلِ: «أَزَازٌ». رَاجِعْ سِيرَةَ ابْنِ سَيِّدِ النَّاسِ ٢/٣٨٩ وَغَيْرَهَا.

اصل نسخے میں «أَزَاز» لکھا ہے۔ اس بارے میں ابن سید الناس کی سیرت، جلد ٢، صفحہ ٣٨٩ اور دیگر مصادر کی طرف رجوع کیا جائے۔

2 حاشیہ

بِالْأَصْلِ رُسِمَتِ الْكَلِمَةُ هَكَذَا: «الظَّرِيشُ». رَاجِعْ سِيرَةَ ابْنِ سَيِّدِ النَّاسِ ٢/٣٨٩ وَغَيْرَهَا.

اصل نسخے میں یہ لفظ اس طرح لکھا گیا ہے: «الظريش»۔ اس بارے میں ابن سید الناس کی سیرت، جلد ٢، صفحہ ٣٨٩ اور دیگر مصادر کی طرف رجوع کیا جائے۔

3 حاشیہ

فِي الْأَصْلِ: «مَلَاحٌ». رَاجِعْ سِيرَةَ ابْنِ سَيِّدِ النَّاسِ ٢/٣٨٩ وَغَيْرَهَا.

اصل نسخے میں «مَلَاح» لکھا ہے۔ اس بارے میں ابن سید الناس کی سیرت، جلد ٢، صفحہ ٣٨٩ اور دیگر مصادر کی طرف رجوع کیا جائے۔

4 حاشیہ

هُنَا فِي الْهَامِشِ كَتَبَ النَّاسِخُ مَا نَصُّهُ:

بَيْضَاءُ، وَهِيَ بِضَمِّ الدَّالَيْنِ، أَهْدَاهَا لَهُ الْمُقَوْقِسُ مَلِكُ مِصْرَ، وَقِيلَ غَيْرُهُ، وَعَاشَتْ بَعْدَهُ حَتَّى كَبِرَتْ وَزَالَتْ أَضْرَاسُهَا، وَكَانَ يُخْشَى لَهَا الشَّعِيرُ، وَعَاشَتْ إِلَى زَمَانِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَاتَتْ بِيَنْبُعَ. اهـ سَيِّدِي مَهْدِي الْفَاسِي.

ناسخ نے حاشیے میں لکھا ہے کہ دُلدُل سفید رنگ کی تھی، اور اس کا نام دال کے دونوں حروف پر پیش کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ اسے مصر کے بادشاہ مقوقس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدیہ کیا تھا، اگرچہ بعض نے اس کے علاوہ کسی اور کا قول بھی ذکر کیا ہے۔

وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد بھی زندہ رہی، یہاں تک کہ بڑی عمر کو پہنچ گئی اور اس کے دانت جھڑ گئے۔ اس کے لیے جو کا دانہ نرم کرکے دیا جاتا تھا۔ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے تک زندہ رہی اور ینبع میں وفات پائی۔

— سیدی مہدی الفاسی

5 حاشیہ

كَذَا بِالْأَصْلِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ ذَلِكَ مِنْ أَهْلِ السِّيَرِ.

اصل نسخے میں اسی طرح مذکور ہے، لیکن مجھے اہلِ سیر میں سے کسی ایسے شخص کا ذکر نہیں ملا جس نے یہ بات بیان کی ہو۔

6 حاشیہ

اللِّقْحَةُ بِكَسْرِ اللَّامِ وَفَتْحِهَا: النَّاقَةُ الْقَرِيبَةُ الْعَهْدِ بِالنِّتَاجِ (الْوِلَادَةِ)، وَنَاقَةٌ لَقُوحٌ إِذَا كَانَتْ غَزِيرَةَ اللَّبَنِ.

لِقْحَہ لام کے کسرہ اور فتحہ، دونوں کے ساتھ آتا ہے۔ اس سے مراد وہ اونٹنی ہے جسے حال ہی میں بچہ پیدا ہوا ہو، اور نَاقَةٌ لَقُوحٌ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کا دودھ بہت زیادہ ہو۔

7 حاشیہ

الْغَابَةُ مَوْضِعٌ قُرْبَ الْمَدِينَةِ مِنْ نَاحِيَةِ الشَّامِ.

الْغَابَةُ مدینہ منورہ کے قریب شام کی سمت واقع ایک مقام کا نام ہے۔

8 حاشیہ

الْمَهْرِيَّةُ مِنَ الْإِبِلِ الْمَنْسُوبَةُ إِلَى مَهْرَةَ بْنِ حَيْدَانَ أَبِي قَبِيلَةٍ.

الْمَهْرِيَّةُ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو مَهْرَةَ بْنِ حَيْدَانَ کی طرف منسوب ہو، جو ایک قبیلے کے جد تھے۔

9 حاشیہ

فِي الْأَصْلِ: «عَيْثَمَا»، وَهُوَ خَطَأٌ، وَالتَّصْوِيبُ مِنْ عُيُونِ الْأَثَرِ لِابْنِ سَيِّدِ النَّاسِ ٢/٣٩١ وَغَيْرِهَا مِنْ كُتُبِ السِّيرَةِ النَّبَوِيَّةِ.

اصل نسخے میں «عَيْثَمَا» لکھا ہے، جو غلط ہے۔ درست لفظ «غَيْثَة» ہے۔ یہ تصحیح ابن سید الناس کی عیون الاثر، جلد ٢، صفحہ ٣٩١ اور سیرتِ نبویہ کی دیگر کتابوں سے ماخوذ ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔